Bharat Express DD Free Dish

AQI

محکمۂ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال میں بننے والے گہرے دباؤ کے اثر سے تمل ناڈو، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک اور کیرالہ میں اگلے 48 گھنٹوں تک موسم سرگرم رہے گا۔ ان ریاستوں کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔

صبح کے وقت دارالحکومت کے کئی حصوں میں دھند اور دھوئیں کی موٹی تہہ چھائی رہی، جس سے حد نگاہ میں نمایاں کمی آئی۔ اس کا اثر ٹریفک پر بھی دکھائی دیا اور کئی علاقوں میں گاڑیوں کی رفتار کم رہی۔ لوگ ماسک پہن کر گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور نظر آئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، حالیہ دنوں میں تیز ہواؤں کے باعث اسموگ اور بڑھتی آلودگی پر کسی حد تک قابو پایا گیا ہے، لیکن مکمل راحت نہیں ملی۔ 7 جنوری کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم 6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

بڑھتی آلودگی کو دیکھتے ہوئے ’گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان‘ (GRAP) کے تیسرے مرحلے کو سختی سے نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت غیر ضروری تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

دہلی کی زہریلی ہوا پر قابو پانے کے لیے حکومت نے ’نو پی یو سی، نو فیول‘ قانون نافذ کر دیا ہے۔ اب جن گاڑیوں کے پاس آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ نہیں ہوگا، انہیں ایندھن فراہم نہیں کیا جائے گا، جبکہ باہر سے آنے والی پرانی گاڑیوں کی دہلی میں انٹری بھی بند رہے گی۔

ڈاکٹروں نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اس درجے کی آلودگی دمہ، سانس کی تکالیف اور آنکھوں میں جلن جیسی بیماریوں کو بڑھا سکتی ہے۔ ۔

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ  کے مطابق، اتوار کی صبح 6 بجے، دہلی کے کئی علاقوں میں اے کیو آئی 490 سے اوپر ریکارڈ کی گئی تھی۔ پورا دارالحکومت 'شدید پلس' کے زمرے میں رہتا ہے۔ نوئیڈا اور دیگر این سی آر علاقوں میں بھی ہوا کا معیار انتہائی خراب ہے۔

آلودگی سے بچاؤ کے لیے بہترین ماسک منتخب کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اصل اہمیت کس چیز کی ہے۔ سب سے پہلی اور اہم خصوصیت فلٹر کرنے کی صلاحیت ہے۔ اچھے ماسک میں پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو جیسے باریک ذرات کو فلٹر کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے،

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24 سے 25 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہے گا، جب کہ کم سے کم درجہ حرارت 9 سے 10 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہ سکتا ہے۔ 18 دسمبر تک موسم میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ 

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ بھارت گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں نویں مقام پر ہے، لیکن ملک کی پالیسی سازی کسی بھی بیرونی رینکنگ پر منحصر نہیں ہے۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس موسم کی شدت اور اس سے ہونے والے انسانی و مالی نقصان کی بنیاد پر ممالک کو رینک کرتا ہے۔