Bharat Express DD Free Dish

APJ Abdul Kalam

یہی نہیں پی ایم مودی نے 1.07 منٹ کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ کہتے ہیں، "کلام صاحب کی زندگی اتنی وسیع، جامع اور گہری تھی کہ انہیں یاد کرنے سے فخر ہوتا ہے، لیکن ایک درد یہ بھی ہے کہ کاش وہ ہمارے درمیان ہوتے۔ یہ خلا ہر ایک کے لیے چیلنج ہے۔"

ڈاکٹر کلام کا انتقال نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک عظیم نقصان تھا۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو خواب دیکھنے اور اُنہیں پورا کرنے کی ترغیب دی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا:"ہمارے عزیز سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی یوم وفات پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔

ایس ایم خان اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور دیانتداری کے لیے جانے جاتے تھے۔ پریس سیکریٹری کے طور پر انہوں نے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ساتھ کام کیا، جس سے ان کی عوامی خدمات اور ملک کے لیے ان کے عزم کو مزید تقویت ملی۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام 15 اکتوبر 1931 کو تامل ناڈو کے رامیشورم میں پیدا ہوئے تھے۔ اے پی جے عبدالکلام نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے مشہور سائنسدانوں میں سے ایک تھے۔

اقلیتی محاذ کے سربراہ جمال صدیقی نے دہلی این سی آر کے 7 اقلیتی نوجوانوں کو”ڈاکٹرکلام اسٹارٹ اپ ایوارڈ“ دیا۔ جس میں 4 مرد اور 3 خواتین کے نام شامل ہیں۔

وزیر دانش آزاد انصاری نے سائنس نمائش کا دورہ کیا اور مدرسہ کے طلباء کی طرف سے پیش کیے گئے ماڈلز کی تعریف کی۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام 15 اکتوبر 1931 کو تمل ناڈو کے رامیشورم میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام جین العابدین اور والدہ کا نام اشیمہ تھا۔ ان کا بچپن کافی جدوجہد میں گزرا اور انہیں اپنی مالی پریشانیوں پر قابو پانے کے لیے اخبارات تقسیم کرنے پڑے۔