Bharat Express DD Free Dish

All Party Meeting

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بل پر جامع بحث کے لیے چھ گھنٹے کا وقت دینے کی پیش کش کی ہے جس پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے بھی ہے۔ منگل کو بل پر تفصیلی بحث شروع ہونے کا امکان۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ مرکز کو موجودہ معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل اور عوامی مفاد سے جڑے دیگر معاملات پر فوری طور پر آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہیے۔

بدھ کے روز یعنی کل سے پارلیمنٹ کا بجٹ سیشن شروع ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے منگل کے روز آل پارٹی میٹنگ ہوئی، جس میں دونوں ایوانوں کے قانون سازی کے کام اورمختلف موضوعات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ ہم نے سب کے مشوروں کو نوٹ کیا ہے۔

اس سے قبل آج صبح راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ راجیہ سبھا کا اجلاس اب پیر کو صبح 11 بجے جب کہ لوک سبھا دوپہر 2 بجے دوبارہ ہوگا۔

اس سے پہلے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری کو شروع ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوران کئی اہم قوانین منظور کیے گئے، جن میں وقف ترمیمی بل بھی شامل ہے۔ بجٹ اجلاس کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجیجو نے بتایا کہ اجلاس کے پہلے حصے میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کل 9 نشستیں ہوئیں۔ اجلاس کے دوسرے حصے میں دونوں ایوانوں کی 17 نشستیں ہوئیں۔ یوں کل ملا کر بجٹ اجلاس میں 26 نشستیں ہوئیں۔

آپریشن سندورکوانجام دینے کے بعد حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کواس آپریشن کے بارے میں جانکاری دی۔

مرکزی حکومت نے آپریشن سندھ کے بارے میں اپوزیشن کو آگاہ کرنے کے لیے جمعرات 8 مئی کو صبح 11 بجے ایک آل پارٹی میٹنگ طلب کی ہے۔ اپوزیشن نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام کی حمایت کی پیشکش کی ہے، جس میں 22 اپریل کو 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پارٹی نے کہا کہ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی جمعرات کو آل پارٹی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق حکومت نے جمعرات کو ایک بند کمرے کی آل پارٹی میٹنگ کے دوران پہلگام دہشت گردانہ حملے میں سیکیورٹی خامیوں کا کیا ہے اعتراف۔

اپوزیشن کی طرف سے راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے، سنجے سنگھ، رام گوپال یادو، سدیپ بندوپادھیائے اور اسد الدین اویسی جیسے سینئر لیڈروں نے شرکت کی۔