Weather Update: ’سسٹم ہینگ‘ کر دے گا مانسون…! 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آندھی اور موسلا دھار بارش، اتر پردیش، بہار سے دہلی تک ہاہاکار
نئی دہلی: محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے 5 اگست کے لیے دہلی، اتر پردیش، بہار، پنجاب، ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش سمیت 15 سے زائد ریاستوں میں موسلا دھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ چکرواتی گردش (سائیکلونک سرکولیشن) کے فعال ہونے کے باعث کئی ریاستوں میں جل بھراؤ، لینڈ سلائیڈنگ اور تیز ہواؤں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
All India Weather Update: ملک کی 15 سے زائد ریاستوں میں مانسون کا زور، دہلی، یوپی سمیت کئی علاقوں میں موسلادھار بارش کا الرٹ
محکمۂ موسمیات کے مطابق 3 اور 4 اگست کو دہلی میں دن بھر آسمان پر بادل چھائے رہیں گے، جبکہ وقفے وقفے سے ہلکی اور درمیانی بارش متوقع ہے۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 33 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم 23 سے 24 ڈگری سیلسیس رہنے کا امکان ہے۔دہلی کے علاوہ نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، غازی آباد اور میرٹھ سمیت مغربی اتر پردیش کے ملحقہ علاقوں میں نسبتاً زیادہ بارش ہو سکتی ہے۔
All India Weather Update: دہلی-این سی آر میں تیز آندھی کی پیش گوئی،ملک کے 16ریاستوں میں شدید طوفان اور موسلادھار بارش کا الرٹ
ہندوستان کے کئی حصوں میں موسم انتہائی خراب رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بعض علاقوں میں تیز ہواؤں کی رفتار 90 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے درخت اکھڑنے، بجلی کے کھمبے گرنے، ٹریفک متاثر ہونے اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کا خدشہ ہے۔
All India Weather Update: دہلی – این سی آر میں آج سے بدلے گا موسم کامزاج، ان علاقوں میں 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں ،جب کہ آسمانی بجلی گرنے کا بھی خطرہ ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور عوام سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور گھروں میں محفوظ رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
All India Weather Update: دہلی، یوپی، بہار سمیت کئی علاقوں میں موسم نے لی کروٹ،15 سے زائد ریاستوں میں موسلا دھار بارش اور آندھی کا ریڈ الرٹ،
دہلی- این سی آر میں آج دن بھر تیز بارش اور آندھی کا امکان ہے۔ ہواؤں کی رفتار 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 اور کم سے کم 28 ڈگری سیلسیس رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔اتر پردیش کے میرٹھ، آگرہ، متھرا، کانپور، جھانسی، گونڈا، گورکھپور، وارانسی اور پریاگ راج سمیت متعدد اضلاع میں ہلکی سے درمیانی بارش کے ساتھ تیز آندھی چلنے کا امکان ہے۔
IMD Weather Update: خبردار ہو جائیے… ایک بار پھر زور پکڑنے والا ہے مانسون، 20 ریاستوں میں بارش کا الرٹ جاری
محکمۂ موسمیات نے مانسون کی رفتار کو دیکھتے ہوئے دہلی-این سی آر سمیت 20 ریاستوں کے لیے شدید بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔
Weather Update: صرف چند گھنٹے اور… پھر ہو سکتا ہے حبس بھری گرمی کا خاتمہ! دہلی، اتر پردیش سمیت 15 ریاستوں میں مانسون کی زبردست واپسی
بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے دہلی-این سی آر، اتر پردیش، بہار، اتراکھنڈ سمیت 15 ریاستوں میں موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ چکرواتی گردش اور فعال مانسون کے باعث کئی علاقوں میں آبی جمعاؤ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
All India Weather Update: دہلی میں بارش کم، حبس برقرار، 22 ریاستوں میں موسلادھار بارش کا ہائی الرٹ، آئی ایم ڈی کی وارننگ
ہماچل پردیش میں بھی آج سے 21 جولائی تک بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ ابتدائی دو دنوں میں منڈی سمیت کئی علاقوں میں اچھی بارش ہوگی، جبکہ 18 جولائی کے بعد بارش کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات نے 20 اور 21 جولائی کے لیے شدید بارش کی وارننگ جاری کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔
All India Weather Update: دہلی-این سی آر، یوپی میں شدید گرمی اور حبس برقرار، بہار و بنگال میں موسلا دھار بارش کا الرٹ
دوسری جانب بہار اور مغربی بنگال میں مانسون پوری شدت کے ساتھ سرگرم ہے۔ محکمۂ موسمیات نے پٹنہ، گیا، بھاگلپور اور پورنیہ میں گرج چمک، تیز ہواؤں اور شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ بعض علاقوں میں انتہائی موسلا دھار بارش کے باعث سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ مغربی بنگال کے کولکاتا میں دن بھر گہرے بادل چھائے رہنے
IMD Rain Alert 13 July 2026: دہلی۔این سی آر اور اتر پردیش میں بارش کی پیش گوئی، اتراکھنڈ میں ریڈ الرٹ
ہماچل پردیش کے پہاڑی علاقوں سے آنے والے پانی کے باعث یمنا ندی اور مارکنڈا کا پانی خطرے کی سطح کے قریب پہنچ رہا ہے، جس سے ہریانہ کے کئی علاقوں میں سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے سے معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں اور متعدد دیہات زیر آب آنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔





