Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav

اکھلیش یادو، قومی صدر سماج وادی پارٹی، اپوزیشن اسمبلی یوپی کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ اتوار 29 اکتوبر 2023 کو لکھنؤ کے ایکانہ اسٹیڈیم میں شام 4 بجے ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ انڈیا-انگلینڈ ون ڈے انٹرنیشنل میچ دیکھنے کے لیے گیٹ نمبر 1 سے جائیں گے۔

سماج وادی پارٹی نے یہاں سے دھرمیندر یادو کو ضمنی انتخاب میں اتارا تھا۔ وہیں دنیش لال یادو نے بی جے پی سے دوبارہ الیکشن لڑا۔ اس الیکشن میں بی جے پی امیدوار نے دھرمیندر یادو کو انتہائی قریبی مقابلے میں شکست دی تھی۔

2019 کے لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی کو اپنی پرانی سیٹ امیٹھی سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہیں بی جے پی کی اسمرتی ایرانی نے شکست دی تھی۔ لیکن کانگریس یوپی کے سربراہ اجے رائے نے حال ہی میں کہا تھا کہ راہل گاندھی 2024 کا لوک سبھا الیکشن دوبارہ امیٹھی سے لڑیں گے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری اور سابق ریاستی وزیر اعظم خان کو سزا سنائے جانے پر بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہناتھا کہ اعظم خان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

اکھلیش یادو نے  کہا کہ ایک نہ ایک دن اعظم خان اور ان کے خاندان کو انصاف ضرور ملے گا۔ ان کے خلاف بڑی سازشیں ہوئی ہیں ۔اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج انہیں ایسی سزاوں کا سامنا کرنے پڑ رہا ہے۔انہوں نے بڑی شاندار یونیورسٹی بنائی ہے ،بی جے پی کے اندر کے لوگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ  اعظم خان مسلمان ہیں اس لئے انہیں ایسی سزاوں کا سامنا کرنے کیلئے پھنسایا جارہا ہے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن اب تک نتیجہ ملا جلا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایم پی کانگریس لیڈر اپنی خواہش کے مطابق ایس پی کو سیٹیں دینے کو تیار نہیں ہیں اور اس سلسلے میں بات چیت چل رہی ہے۔

جمعرات کو لکھنؤ میں ایک پروگرام کے دوران ایس پی سربراہ اور یوپی کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے ایک بار پھر ذات پات کی مردم شماری کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات کی مردم شماری سے اتر پردیش میں تمام ذاتوں کو حقوق اور احترام ملے گا۔

ایس پی نے ایل ڈی اے پر الزام لگایا ہے کہ جے پی نارائن کی جینتی کے موقع پر ایس پی صدر اکھلیش یادو کو پھولوں کا ہار چڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جبکہ ایس پی نے اس سلسلے میں اجازت مانگی تھی۔

لوک سبھا انتخابات سے عین قبل مغربی یوپی کا مسئلہ اٹھانا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ یہ مسئلہ راشٹریہ لوک دل، سماج وادی پارٹی کے ساتھ ساتھ بی ایس پی کی پریشانیوں کو بڑھا سکتا ہے۔

ایس پی سربراہ نے کہا کہ اگر سرکاری اسکول بند ہوں گے تو کیا غریبوں کے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھ سکیں گے؟ کیا ان کا کوئی مستقبل ہوگا؟ جب ان کے پاس تعلیم نہیں ہوگی تو ان کا مستقبل کیا ہوگا؟ اس لیے عوام کو چاہیے کہ ایسی حکومت کو ہٹا دیں جس نے سکول بند کر دیے۔