Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav

دوسری طرف سابق ایم ایل اے روچی ویرا نے مرادآباد لوک سبھا سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے انہیں ٹکٹ دیا ہے اس لیے وہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے آئی ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے رامپور کے ضلع صدر نے اعظم خان کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو کہا تھا کہ یہاں کی ضلع یونٹ چاہتی تھی کہ سماجوادی پارٹی کے صدراکھلیش یادو یہاں سے لوک سبھا الیکشن لڑیں۔

محب اللہ ندوی کے رام پور سے الیکشن لڑنے کی خبر کے بعد ہلچل مچی ہوئی ہے۔ حال ہی میں ایس پی صدر اکھلیش یادو نے ان سے ملاقات بھی کی تھی جس کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

جیل میں بند سابق رکن پارلیمنٹ اعظم خان نے خط لکھ الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ حامی اسی خط کو دکھا کراب الیکشن سے دور جانے کی بات کرنے لگے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اعظم خان چاہتے تھے کہ رامپورسے اکھلیش یادو الیکشن لڑیں۔ وہیں مرادآباد کے رکن پارلیمنٹ ایس ٹی حسن کا ٹکٹ کٹنے کی قیاس آرائی ہے۔

ایس پی سربراہ نے سوال کیا کہ جس ملک کے ایک لاکھ کسان خودکشی کر رہے ہیں وہ 'ترقی یافتہ ہندوستان' کیسے بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک لاکھ کسان خودکشی کر رہے ہیں، نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں، صنعتیں کارخانے لگانے کے قابل نہیں اور حکومت نے صنعتکاروں کو بلا کر بڑے بڑے خواب دکھائے۔

اکھلیش نے سیفئی میں منعقد ہولی مہوتسو کے دوران کہا، "لوگ خاندان کے افراد کو لے کر بہت سے سوالات اٹھا رہے ہیں، اس لیے ہم نے ایک ریکارڈ بھی بنایا اور خاندان کے تمام افراد کو ٹکٹ دیا، یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا کیونکہ بی جے پی والے نہیں جانتے کہ کیا کیا؟ آپ کیا کہتے ہیں؟

اکھلیش یادو جمعہ کو سیتا پور جیل میں بند پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان سے ملنے پہنچے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ اعظم خان کو ضرور انصاف ملے گا۔ وقت تبدیل ہوتا ہے۔ وقت بہت طاقتور ہے۔ اعظم خان کو انصاف ملے گا۔

ایس پی پہلے ہی بجنور سیٹ سے سابق ایم پی یشویر سنگھ کو اپنا امیدوار بنا چکی ہے۔ لیکن، اب ان کا ٹکٹ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ شاہد منظور اس نشست سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو کے خلاف بڑا داؤں چل دیا ہے۔ بی ایس پی کے اس داؤں کا لوک سبھا الیکشن پراثر پڑسکتا ہے۔

اترپردیش میں سماجوادی پارٹی اور اپنا دل کمیرا وادی کے درمیان الائنس ٹوٹ گیا ہے۔ اب اس کا لوک سبھا الیکشن پرکیا اثر ہوگا۔ یہ تو مستقبل طے کرے گا۔