Bharat Express DD Free Dish

AIMIM chief

مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کی گہماگہمی کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کے ایک بیان نے ریاست ہی نہیں بلکہ ملک بھر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ لاتور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے ووٹروں کو ایسی صلاح دی جس پر سیاسی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

آل انڈیا مجلسِ اتحادُالمسلمین کے قومی صدر اور حیدرآباد سے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے ممبئی کے گوونڈی میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ لے جا سکتے ہیں تو وزیر اعظم مودی پاکستان جا کر 26/11 حملے کے ماسٹر مائنڈ کو بھارت کیوں نہیں لا سکتے؟

مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد میں بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد سرخیوں میں آئے ٹی ایم سی کے معطل رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ پارٹی نے نہ صرف ان کے سیاسی اتحاد کی پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا بلکہ اسے ’’سیاسی طور پر مشکوک‘‘ قرار دیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایک لیڈر کے بیان نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے ممبر اسمبلی ماجد حسین کی جانب سے انتخابی جلسے میں دیا گیا مبینہ دھمکی آمیز بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہنگامہ مچ گیا ہے۔ صارفین پولیس اور الیکشن کمیشن کو ٹیگ کرکے کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے امّور کے جلسہ عام میں کہا کہ ان کی پارٹی نتیش کمار حکومت کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ سیمانچل کے ساتھ انصاف کیا جائے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی سیمانچل کے عوام کے حقوق، انصاف اور ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اسد الدین اویسی کی پارٹی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے آئندہ بہار اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے 25 امیدواروں  کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے لیے تمام پارٹیاں اور اتحاد انتخابی میدان میں اپنے امیدوار اتارنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اسی درمیان، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے 32 نشستوں کی اپنی پہلی فہرست جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس انتخابات میں 100 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔

آپ کو بتادیں کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی بہار کے سیمانچل میں اچھی موجودگی ہے۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے 5 سیٹیں جیتیں لیکن پارٹی کو اس وقت جھٹکا لگا جب اس کے پانچ میں سے چار ایم ایل اے آر جے ڈی میں چلے گئے۔

ساورکر اور گولوالکر کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی کے بیانات نے سیاسی گلیاروں میں نیا تنازعہ پیدا کر دیا ہے۔