Bharat Express DD Free Dish

Adani Foundation

یہ پروجیکٹ “اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل” اور “اڈانی فاؤنڈیشن” کی مشترکہ پہل ہے۔ منصوبے کے تحت یہاں “اڈانی سینٹر فار آئی ڈیزیز” اور نوجوانوں کے لیے “اڈانی ٹریننگ سینٹر فار آپتھالمک سائنسز” قائم کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف دیہی علاقوں میں آنکھوں کے علاج کی سہولیات فراہم کرنا ہے بلکہ مقامی نوجوانوں کو جدید طبی تربیت دے کر انہیں روزگار کے قابل بنانا بھی ہے۔

یہ تقریب اڈانی فاؤنڈیشن اور اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کو دیہی صحت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت مانا جا رہا ہے، جو نہ صرف آنکھوں کے علاج کو عام لوگوں تک پہنچائے گا بلکہ تربیت اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

سال 2005 میں بہار کے ایک دیہی علاقے میں 30 بستروں والے اسپتال کے طور پر قائم ہونے والا اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل آج ملک کے نمایاں آنکھوں کے اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں اب تک 14 لاکھ سے زیادہ افراد کی بینائی بحال کی جا چکی ہے، جبکہ لاکھوں لوگوں کی آنکھوں کا چیک اپ کیا جا چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اس معاملے پر مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسی ہفتے اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ انصاف گوتم اڈانی کے خلاف عائد الزامات واپس لینے سے متعلق عمل مکمل کرنے کے قریب ہے، جبکہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن بھی اس معاملے کو نمٹانے کے لیے مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے۔

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے فخر کے ساتھ کہا کہ اسکول کے طلبہ آج بحریہ، تعلیم، کاروبار، کھیل اور فنون جیسے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، “ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے کیا بنایا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے کن لوگوں کو بنایا۔

اڈانی فاؤنڈیشن نے مدھیہ پردیش کے ضلع شیو پوری کے گاؤں بدر باس کے قریب ایک نیا اڈانی وکاس مرکز شروع کر دیا ہے۔ یہ مرکز ڈاکٹر پریتی اڈانی کے ’سوا بھیمان وژن‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد خواتین کو گھر کے قریب روزگار اور مستحکم آمدنی فراہم کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت، جی سی اے پی  ادارے کے تعاون سے 30 سرکاری سیکنڈری اسکولوں میں "اسکالر پلانیٹ" ایپ کے ذریعے 5000 سے زائد طلبہ کو مفت ڈیجیٹل تعلیمی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے نصاب پر مبنی مواد، آن لائن موک ٹیسٹ، اساتذہ کے اسائنمنٹس اور اضافی تعلیمی وسائل تک آسان رسائی حاصل ہو رہی ہے۔

پریتی اڈانی نے اعلان کیا کہ اگلے مرحلے میں مہاراشٹر کی ایک لاکھ خواتین کو اس پہل سے جوڑا جائے گا۔ اس کے بعد آنے والے برسوں میں اسے پورے ملک تک پھیلا کر 10 لاکھ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق اس اقدام سے علاقے میں تشخیصی صلاحیت اور طبی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے نہ صرف سرکاری صحت کے نظام کو تقویت ملی ہے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے بہتر اور آسان طبی سہولتوں تک رسائی بھی ممکن ہوئی ہے۔

پروگرام کے منتظمین کے مطابق اس تربیت نے خواتین میں خود اعتمادی پیدا کی ہے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا موقع ملا ہے۔ بہت سی خواتین نے گھریلو صنعت، دستکاری، کھانے پینے کے سامان اور دیگر چھوٹے کاروبار شروع کر کے اپنی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔