Bharat Express DD Free Dish

Adani Foundation

اڈانی گروپ کی جانب سے بھی ریاست میں اپنی موجودگی بڑھانے کے اشارے ملے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اڈانی گروپ مغربی بنگال میں بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) سے متعلق بڑے منصوبوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اڈانی فاؤنڈیشن  نے پدری واقع اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر میں پہلے بیچ کا آغاز کیا ہے، تین ماہ کی تربیت سے دیہی نوجوانوں کو روزگار سے جڑی مہارتیں حاصل ہوں گی۔

اڈانی انرجی سلوشنز کے سی ای او کندرپ پٹیل نے کہا کہ انٹیلی اسمارٹ کا حصول کمپنی کی صلاحیتوں اور آپریشنل دائرہ کار کو مزید مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ٹیکنالوجی پر مبنی حل کے ذریعے بھارت کے بجلی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

شجرکاری پروگرام کے تحت کان کنی کے دوران کاٹے جانے والے ہر ایک درخت کے بدلے 40 نئے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ اس مہم میں سال، مہوا، تیندو، املتاس اور سدھا جیسے مقامی انواع کے درختوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق لگائے گئے پودوں کی بقا کی شرح تقریباً 88 فیصد رہی ہے،

اڈانی فاؤنڈیشن اور انوشکا فاؤنڈیشن نے پانچ ریاستوں میں 10 ہزار سے زائد بچوں کو کلب فٹ کے علاج تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے شراکت داری کی ہے۔

اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون کی جانب سے تیار اور چلائے جانے والے وِزنجم انٹرنیشنل سی پورٹ نے آپریشنز شروع ہونے کے صرف 18 ماہ کے اندر دو ملین ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹس (TEUs) ہینڈل کرنے کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، اور یہ کارنامہ انجام دینے والا بھارت کا تیز ترین بندرگاہ بن گیا ہے۔

نوئیڈا کی ملٹی نیشنل کمپنی میں 9 تربیت یافتہ نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا  ہے۔ نوجوانوں کو اڈانی فاؤنڈیشن کی مفت تربیت سے روزگار کے نئے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔

بلومبرگ نے اس معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کیپٹل گروپ نے اڈانی پورٹس، اڈانی پاور اور اڈانی گرین انرجی میں بڑے پیمانے پر حصص خریدے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 مئی کو کیپٹل گروپ نے اوپن مارکیٹ ٹرانزیکشن کے ذریعے اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمیٹڈ میں تقریباً 2 فیصد حصص خریدے، جن کی مالیت تقریباً 74.86 ارب روپے یعنی 776 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔

بھارت اس وقت تیزی سے پمپڈ اسٹوریج صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور آندھرا پردیش اس شعبے میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اڈانی گروپ بھی اپنی قابل تجدید توانائی حکمت عملی کے تحت آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں ایسے کئی منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے۔

بھٹوریا کے مطابق ان قانونی معاملات کے خاتمے سے ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے اور اس سے عالمی بازار میں سرگرم ہندوستانی کمپنیوں کے بارے میں اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ انہوں نے امریکہ میں اڈانی گروپ کی مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو امریکی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی شعبے کے لیے “گیم چینجر” قرار دیا۔