آئی پی ایل 2026 کے نئے ضوابط بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ہرکوئی یہ جاننا چاہتا ہے کہ آخرکیوں بی سی سی آئی کواچانک سخت ضوابط لانے پڑے۔ اس رپورٹ میں آپ کے ہرسوال کا جواب مل جائے گا۔ یہاں تفصیل میں جانئے کہ اب آئی پی ایل 2026 میں کن چیزوں پرروک لگائی گئی ہے اورکیوں یہ فیصلہ لینا پڑا۔
ممنوعہ علاقوں میں ریلزبنانا، سیکیورٹی کلیئرنس کے بغیرمذاق اورسوشل میڈیا پراثراندازکرنے والوں سے کھلاڑیوں کی قربت نے بی سی سی آئی کوسخت مشورے جاری کرنے پرمجبورکیا ہے، جس پرآئی پی ایل ٹیمیں اب رازداری سے سمجھوتہ کئے بغیراس پرعمل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے کھلاڑیوں، معاون عملے اورٹیم آفیشلزکے ہوٹل کے کمروں میں غیرمجازمہمانوں سے متعلق خبردارکیا ہے اوریہ بھی آگاہ کیا ہے کہ یہ ’ہنی ٹریپ‘ ہوسکتا ہے۔
بی سی سی آئی نے جاری کی ایڈوائزری
نتیجتاً بی سی سی آئی نے ایک ایڈوائزری جاری کی، جس میں مہمانوں پرپابندی اورکھلاڑیوں کے لئے سیکورٹی حکام کواپنی سرگرمیوں سے آگاہ کرنے کی شرط لازمی کردی گئی ہے۔ اس کی خلاف ورزی کے اہم معاملوں میں کھلاڑیوں کی انفلواینسرس سے قربت ہے، جن کی خدمات حصہ لینے والی ٹیموں کے لیے سوشل میڈیا مواد تیارکرنے کے مقصد سے مختصرمدت کے لئے لی جاتی ہیں۔ ایک حادثہ میں ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں میں سے ایک نے مواد (کنٹینٹ) ٹیم کے نئے رکن سے ریلزبنانے، ویڈیواورتصاویرلینے میں ان کی مدد کرنے کے لئے کہا، جوان کے نجی سوشل میڈیا اکاونٹ پرپوسٹ کرنے کے لئے تھا۔
بی سی سی آئی نے ضوابط میں کردی تبدیلی
کسی کھلاڑی کے لئے نیو-میڈیا کنٹینٹ بنانے کے لئے باہرسے مدد لینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاہم اس خاص معاملے میں بلاگرنے’’اٹریکشن‘‘ پانے کے لئے اپنے پرائیویٹ اکاونٹ پرکچھ ویڈیو اورتصاویرکا استعمال کیا۔ یہ شوٹ گراؤنڈ کے اندرہوا، جس میں ٹیم کی پریکٹس اوردیگرآن فیلڈ سرگرمیوں کے مناظرشامل تھے۔ بعد ازاں کھلاڑیوں کے ہوٹل کے کمروں کے مناظربھی شامل ہیں۔ ایک فرنچائزی کے افسرنے پی ٹی آئی سے کہا کہ ہمیں بی سی سی آئی سے نئے ضوابط پرعمل کرنے کے احکامات ملے ہیں اوران پرعمل کرانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ نئے کھلاڑی سوشل مییا پرکافی سرگرم ہیں اوریہ جدید ٹرینڈ ہے، جسے قبول کرنا ہوگا۔ تاہم بی سی سی آئی کی مقررکردہ حدود میں ہونا چاہئے۔ لوگوں کی ہرسرگرمی پرنظررکھنا ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔ ہم کھلاڑیوں اورکنٹینٹ ٹیموں کو بی سی سی آئی کے ضوابط اورانہیں توڑنے کے نتائج سے آگاہ کرا رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
