بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز اور شاندار فیلڈر محمد کیف نے انگلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھارت کی شکست کے بعد ٹیم انتظامیہ پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارتی ٹیم مینجمنٹ کو اس سے پہلے کبھی اتنا الجھا ہوا نہیں دیکھا۔
ٹیم مینجمنٹ پر سوالات
محمد کیف نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر لکھا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ شدید کنفیوژن کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق ویبھو سوریہ ونشی اور سنجو سیمسن کے ساتھ جس انداز میں برتاؤ کیا گیا، وہ پیشہ ورانہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی غیر معمولی صلاحیت کا حامل ہے جبکہ دوسرا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہ چکا ہے، ایسے کھلاڑیوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مسلسل شکستوں نے بڑھائی تشویش
ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ 2026 جیتنے کے بعد بھارتی ٹیم نے آئرلینڈ کے خلاف دو اور انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلی، لیکن دونوں دوروں میں ٹیم ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ دونوں سیریز میں بھارت کو یکطرفہ شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مسلسل بدلتی ہوئی پلیئنگ الیون کی وجہ سے کوچ اور کپتان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سنجو اور ویبھو کے ساتھ مسلسل تبدیلیاں
سنجو سیمسن آئرلینڈ کے خلاف دونوں میچوں اور انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے، جس کے بعد انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ ان کی جگہ انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں ویبھو سوریہ ونشی کو موقع دیا گیا، لیکن وہ بھی مسلسل تین اننگز میں ناکام رہے۔ اس کے بعد پانچویں ٹی ٹوئنٹی میں دوبارہ سنجو سیمسن کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
مستقل مزاجی کے فقدان کا اثر
اوپننگ اور ٹاپ آرڈر میں مسلسل تبدیلیوں کے باعث ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رہ سکا، جس کا براہ راست اثر نتائج پر بھی نظر آیا۔ انگلینڈ نے پانچ میچوں کی سیریز 4-0 سے اپنے نام کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ اب بھارتی ٹیم کا اگلا دورہ زمبابوے کا ہے، جہاں اسے تین ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے ہیں۔ اس سیریز سے قبل بھارتی ٹیم مینجمنٹ کو اپنی حکمت عملی اور پلیئنگ الیون پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


