Bharat Express DD Free Dish

Indian Shooter Asian Games Gold Medal: راہی سرنوبت: این سی سی سے آغاز، عالمی سطح پر کی تاریخ رقم، ہندوستان کی بنیں گولڈن گرل

36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز، ایشین گیمز اور عالمی کپ میں طلائی تمغے جیت کر ملک کا نام روشن کیا

ہندوستانی نشانے بازی کی دنیا میں راہی سرنوبت ایک نمایاں نام ہیں۔ 25 میٹر پسٹل مقابلے میں اپنی درست نشانے بازی کے دم پر انہوں نے کئی بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کو فخر کا موقع فراہم کیا۔ ایشین گیمز، کامن ویلتھ گیمز، جنوبی ایشیائی کھیلوں، عالمی کپ اور کامن ویلتھ یوتھ گیمز جیسے بڑے مقابلوں میں وہ متعدد تمغے جیت چکی ہیں۔ 30 اکتوبر 1990 کو مہاراشٹر کے کولہاپور میں پیدا ہونے والی راہی جیون سرنوبت جمعہ کو اپنی 36ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔ آج ان کا شمار ہندوستان کی کامیاب ترین خاتون نشانے بازوں میں ہوتا ہے۔

این سی سی کی تربیت نے دکھائی کیریئر کی راہ

راہی کا نشانے بازی سے تعارف اسکول کے زمانے میں ہوا۔ این سی سی کی تربیت کے دوران انہیں پہلی بار پسٹل اور بندوق چلانے کا موقع ملا۔ کم عمری ہی میں انہوں نے نشانے بازی میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ شروع کر دیا تھا۔ تاہم، اسے پیشے کے طور پر اپنانے کی تحریک انہیں اس وقت ملی جب ان کی اسکول کی سینئر کھلاڑی تیجسونی ساونت نے 2006 کے کامن ویلتھ گیمز میں طلائی تمغہ جیتا۔ اس کامیابی نے راہی کو بھی بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دی۔

مشکلات کے درمیان اپنی شناخت بنائی

اپنے ابتدائی کیریئر میں راہی کو محدود سہولتوں کے ساتھ مشق کرنا پڑی۔ بہتر تربیتی سہولتوں کی تلاش میں وہ ممبئی پہنچیں، جہاں انہیں کھیل میں آگے بڑھنے کے لیے بہتر مواقع اور وسائل میسر آئے۔ ان کی محنت کا نتیجہ جلد ہی بین الاقوامی سطح پر نظر آنے لگا اور انہوں نے مسلسل کامیابیاں حاصل کرنا شروع کر دیں۔

کامن ویلتھ یوتھ گیمز سے ملی بڑی پہچان

2008 میں پونے میں منعقدہ کامن ویلتھ یوتھ گیمز نے راہی کے کیریئر کو نئی سمت دی۔ انہوں نے 25 میٹر پسٹل مقابلے میں طلائی تمغہ جیت کر اپنی صلاحیت ثابت کی۔ اس کامیابی نے انہیں بین الاقوامی شناخت دلائی اور بڑے مقابلوں میں شرکت کے راستے کھولے۔ اس کے بعد 2010 کے دہلی کامن ویلتھ گیمز میں انہوں نے انفرادی مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا۔ وہیں انیسہ سید کے ساتھ مل کر 25 میٹر پسٹل کے جوڑی مقابلے میں طلائی تمغہ بھی اپنے نام کیا۔

اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون

راہی نے 2011 میں فورٹ بیننگ عالمی کپ میں 25 میٹر پسٹل مقابلے کا کانسی کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی۔ اس کارکردگی کی بدولت انہیں اولمپکس کا کوٹہ ملا۔ وہ 25 میٹر پسٹل مقابلے میں اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون نشانے باز بنیں۔ تاہم، 2012 کے لندن اولمپکس میں وہ کوالیفائنگ مرحلے میں 19ویں مقام پر رہیں اور فائنل میں جگہ نہیں بنا سکیں۔

عالمی کپ میں طلائی تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی

2013 راہی کے کیریئر کے یادگار ترین برسوں میں سے ایک ثابت ہوا۔ چانگون عالمی کپ میں انہوں نے 25 میٹر پسٹل مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ عالمی کپ میں طلائی تمغہ جیتنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون پسٹل نشانے باز بن گئیں۔ اسی سال تہران میں منعقدہ ایشیائی چیمپئن شپ میں انہوں نے انیسہ سید اور سرُبھی پاٹھک کے ساتھ ٹیم مقابلے میں چاندی کا تمغہ بھی جیتا۔

کامن ویلتھ اور ایشین گیمز میں شاندار کارکردگی

گلاسگو میں منعقدہ 2014 کے کامن ویلتھ گیمز میں راہی نے 25 میٹر پسٹل مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا۔ اس کے بعد اسی سال انچیون ایشین گیمز میں انہوں نے ٹیم مقابلے میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ اس ٹیم میں ان کے ساتھ انیسہ سید اور ہینا سدھو بھی شامل تھیں۔ ان کامیابیوں نے راہی کو ہندوستانی نشانے بازی کی صفِ اول کی کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔

ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون

گوہاٹی میں منعقدہ 2016 کے جنوبی ایشیائی کھیلوں میں راہی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انیسہ سید اور انّو راج سنگھ کے ساتھ انہوں نے انفرادی اور ٹیم، دونوں مقابلوں میں طلائی تمغے جیتے۔ اس کے بعد 2018 کے پالمبنگ ایشین گیمز میں انہوں نے 25 میٹر پسٹل مقابلے میں طلائی تمغہ جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ وہ ایشین گیمز کے نشانے بازی مقابلے میں طلائی تمغہ جیتنے والی ہندوستان کی پہلی خاتون بنیں۔

حالیہ برسوں میں بھی کامیابیوں کا سلسلہ جاری

راہی کی شاندار کارکردگی بعد کے برسوں میں بھی جاری رہی۔ 2021 میں نئی دہلی عالمی کپ کے 25 میٹر پسٹل مقابلے میں انہوں نے چاندی کا تمغہ جیتا۔ بعد میں اوسیجیک عالمی کپ میں اسی مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کرکے اپنی صلاحیت دوبارہ ثابت کی۔تاہم، 2026 کے ایشین گیمز میں انہوں نے حصہ لیا، لیکن اس مرتبہ وہ تمغہ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

کھیل کے ساتھ انتظامی ذمہ داریاں بھی

راہی سرنوبت صرف ایک کامیاب کھلاڑی ہی نہیں، بلکہ انتظامی ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں۔ وہ اس وقت مہاراشٹر حکومت میں ڈپٹی کلکٹر (محکمۂ مال) کے عہدے پر فائز ہیں۔ ہندوستانی کھیلوں میں ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2018 میں ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ آج راہی سرنوبت لاکھوں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں۔ ان کا سفر ثابت کرتا ہے کہ محنت، صبر اور جنون کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی جا سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read