کرکٹ میں کچھ کھلاڑی اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں، جب کہ کچھ اپنی درد بھری زندگی کی کہانی کے سبب۔ زمبابوے کے سابق تیز گیند باز ہنری اولونگاکی دونوں ہی وجوہات کی بنا پر خبروں میں رہے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب ان کی خطرناک باؤنسرز نے خود سچن تندولکر جیسے عظیم بلے باز کو بھی پریشان کر دیا تھا، لیکن آج وہی کھلاڑی آسٹریلیا میں اسکولوں، چھوٹے بارز اور کروز شپ پر گانا گا کر اپنا گزارا کر رہے ہیں۔
کرکٹ سے موسیقی تک کا سفر
ہنری اولونگاکی کو ہمیشہ سے موسیقی کا شوق رہا ہے۔ اپنے کرکٹ کیریئر کے دوران بھی وہ گانے لکھتے اور گنگناتے تھے۔ سال 2001 میں انہوں نے ‘آور زمبابوے’ کے نام سے ایک گانا ریلیز کیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب زمبابوے میں سیاسی تشدد عروج پر تھا اور رابرٹ موگابے کی حکومت پر سنگین الزامات لگ رہے تھے۔ اس گانے میں ملک کے لیے درد اور امید دونوں کی جھلک نظر آتی تھی۔
کالی پٹی، احتجاج اور ملک چھوڑنے کی مجبوری
2003 کے ورلڈ کپ کے دوران ہنری اولونگاکی اور اینڈی فلاور نے ملک میں جمہوریت کی خراب صورتحال کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کالی پٹیاں باندھ کر میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ اس جرات مندانہ قدم کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ ہنری اولونگاکی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں، انہیں ٹیم بس سے اتار دیا گیا اور آخرکار زمبابوے چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ بعد میں وہ آسٹریلیا منتقل ہو گئے۔
آسٹریلیا میں نئی زندگی اور نئے چیلنجز
کرکٹ سے دوری کے بعد ہنری اولونگاکی نے مختلف چھوٹی موٹی نوکریاں کیں۔ گزشتہ تقریباً دس برسوں سے وہ گلوکاری کے ذریعے اپنی زندگی چلا رہے ہیں۔ وہ کروز شپ، چھوٹے قصبوں، اسکولوں اور بارز میں گانا گاتے ہیں، چاہے وہاں سننے والے چند لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔ خود اولانگا مانتے ہیں کہ یہ کسی گلوکار کے کیریئر کی بلندی نہیں، مگر یہی ان کی موجودہ حقیقت ہے۔
جب سچن تندولکر بھی رہ گئے تھے حیران
بھارتی شائقین آج بھی ہنری اولونگاکی کو یاد کرتے ہیں، کیونکہ 1998 کی چیمپئنز ٹرافی میں انہوں نے ایک تیز باؤنسر پر سچن تندولکر کو آؤٹ کیا تھا۔ یہ وکٹ اتنی خاص تھی کہ بعد میں اجے جڈیجا نے کمنٹری کے دوران بتایا کہ سچن اس آؤٹ سے کافی پریشان ہو گئے تھے اور اگلا میچ آنے تک ٹھیک سے سو بھی نہیں پائے تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
