بھارتی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز یشسوی جیسوال اور بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی اوپننگ بلے باز شیفالی ورما کو نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (ناڈا) نے مبینہ طور پر اینٹی ڈوپنگ قوانین کے تحت اپنی لوکیشن نہ بتانے پر نوٹس جاری کیا ہے۔دونوں کھلاڑی اس وقت ناڈا کے رجسٹرڈ ٹیسٹنگ پول (RTP) کا حصہ ہیں اور ان کی باقاعدہ ٹیسٹنگ ہوتی ہے۔ انہیں اپنی لوکیشن کی معلومات فراہم کرنا لازمی ہوتا ہے تاکہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ٹیسٹنگ کے لیے ان تک پہنچا جا سکے۔
ناڈا کے رجسٹرڈ ٹیسٹنگ پول کے کیا ہیں قواعد
ناڈا کے رجسٹرڈ ٹیسٹنگ پول میں شامل ایتھلیٹس کو ہر سہ ماہی میں اپنی لوکیشن کی تفصیلات دینی ہوتی ہیں، جن میں گھر کا پتہ، ای میل ایڈریس، فون نمبر، رات گزارنے کی جگہ، ٹورنامنٹ کا شیڈول اور مقامات، ٹورنامنٹ کب اور کہاں ہو رہا ہے، اور ہر دن کا 60 منٹ کا ایسا ٹائم سلاٹ شامل ہوتا ہے جب وہ ٹیسٹنگ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ کسی بھی ٹیسٹ کے مس ہونے کی ذمہ داری کھلاڑی پر ہی عائد ہوتی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ڈوپ کنٹرول افسر (DCO) گزشتہ سال 17 دسمبر کو یشسوی جیسوال اور 7 نومبر کو شیفالی ورما کا ٹیسٹ لینے پہنچے تھے، لیکن دونوں اپنی بتائی گئی لوکیشن پر موجود نہیں تھے۔
دونوں کرکٹرز سے جواب طلب
ناڈا نے اس سال 18 اور 20 فروری کو دونوں کرکٹرز سے اس معاملے پر جواب طلب کیا تھا، لیکن دونوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد ناڈا نے باضابطہ طور پر کھلاڑیوں کا ’پہلا مسڈ ٹیسٹ‘ ریکارڈ کر لیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں کرکٹرز کو جواب دینے کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کے مسڈ ٹیسٹ کی اطلاع بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) اور آئی سی سی کو بھی دے دی گئی ہے۔دونوں کرکٹرز کو اب کافی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ 12 ماہ کے اندر تین مسڈ ٹیسٹ ناڈا اینٹی ڈوپنگ کے آرٹیکل 2.4 کے تحت اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی تصور کیے جائیں گے۔ اس کی سزا چار سال تک کی پابندی بھی ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



