Bharat Express DD Free Dish

Illegal online gaming websites: حکومت نے آئی پی ایل سے قبل غیر قانونی آن لائن گیمنگ کی 357 ویب سائٹس بلاک کیں

آئی پی ایل کی شروعات سے قبل ایک اہم قدم اٹھائے ہوئے جی ایس ٹی انٹیلی جنس افسران نے غیر قانونی آف شور آن لائن گیمنگ فرموں کی 357 ویب سائٹس کو بلاک کر دیا ہے اور تقریباً 2,400 بینک اکاؤنٹس منجمد بھی کیے گئے ہیں۔

آئی پی ایل کی شروعات سے قبل ایک اہم قدم اٹھائے ہوئے جی ایس ٹی انٹیلی جنس افسران نے غیر قانونی آف شور آن لائن گیمنگ فرموں کی 357 ویب سائٹس کو بلاک کر دیا ہے اور تقریباً 2,400 بینک اکاؤنٹس منجمد بھی کیے گئے ہیں۔ ایجنسی کا مقصد ان اداروں کی ٹیکس چوری کو روکنا ہے۔ واضح رہے کہ بالی ووڈ کی مشہور شخصیات، کرکٹرز اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والوں کے ذریعے اس کی تشہیر کے باوجود وزارت خزانہ نے عوام کو آف شور گیمنگ پلیٹ فارمز کے استعمال سے خبردار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 700 آف شور ای-گیمنگ کمپنیاں جی ایس ٹی سے بچنے اور رجسٹریشن میں ناکام ہونے کے الزام میں زیر تفتیش ہیں۔

دی ٹربیون کی خبر کے مطابق ان آف شور کمپنیوں نے لین دین کے لیے غیر قانونی طور پر زیر استعمال بینک اکاؤنٹس کا استعمال کیا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹیلی جنس (ڈی جی جی آئی) نے دو الگ الگ معاملات میں اس طرح کے 166 اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا ہے اور تقریباً 126 کروڑ روپے منجمد کر دیے ہیں۔ اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

حکومتی بیان کے مطابق غیر قانونی/ غیر تعمیل شدہ آف شور آن لائن منی گیمنگ اداروں کی 357 ویب سائٹس کو ڈی جی جی آئی نے، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (MeitY) کے تعاون سے اب تک بلاک کر دیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ جی ایس ٹی قانون کے تحت آن لائن منی گیمنگ 28 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے اور اس شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو جی ایس ٹی کے تحت رجسٹریشن لازمی ہے۔ حکومت نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف ریگولیٹڈ ای-گیمنگ پلیٹ فارمز کا ہی استعمال کریں، ورنہ انھیں بھاری نقصانات ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read