Bharat Express DD Free Dish

IPL broadcast ban in Bangladesh: بنگلہ دیش میں آئی پی ایل نشریات پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ مؤخر، وزیراطلاعات کی واپسی کے بعد ہوگی مشاورت

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اس وقت آئی پی ایل کی براہِ راست نشریات پر پابندی عائد کی تھی جب کولکاتا نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیظ الرحمٰن کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً 5 جنوری کو تمام آئی پی ایل نشریات اور متعلقہ سرگرمیوں کو روکنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔

بنگلہ دیش کے کھیلوں کے وزیر امین الحق نے کہا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ کی نشریات پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ وزیر اطلاعات کی واپسی کے بعد کیا جائے گا۔ اس معاملے پر دونوں وزارتوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ کھیلوں کے وزیر کے مطابق ظہیرالدین سواپن اس وقت بیرون ملک سرکاری دورے پر ہیں اور 30 مارچ کو وطن واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی کے بعد ہی اس معاملے پر تفصیلی غور کیا جائے گا اور حتمی فیصلہ سامنے آئے گا۔

وزارتوں کے درمیان مشاورت

امین الحق نے بتایا کہ وزارت اطلاعات نے اس معاملے پر وزارت کھیل سے رائے طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد مشترکہ مشاورت کے ذریعے فیصلہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اس وقت آئی پی ایل کی براہِ راست نشریات پر پابندی عائد کی تھی جب کولکاتا نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیظ الرحمٰن کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاجاً 5 جنوری کو تمام آئی پی ایل نشریات اور متعلقہ سرگرمیوں کو روکنے کی ہدایت جاری کی گئی تھی۔

نئی حکومت کی پیش رفت

12 فروری کو عام انتخابات کے بعد نئی جمہوری حکومت کے قیام کے بعد اس مسئلے پر دوبارہ غور شروع کیا گیا۔ وزارت اطلاعات نے وزارتِ کھیل سے پوچھا ہے کہ آیا اس پابندی کو ختم کیا جا سکتا ہے یا نہیں، تاہم ابھی تک باضابطہ رائے موصول نہیں ہوئی۔ انڈین پریمیئر لیگ 2026 کا آغاز 28 مارچ سے ہو چکا ہے، جس میں دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کا مقابلہ سن رائزرز حیدرآباد سے ہے۔ جبکہ کولکاتا نائٹ رائیڈرز 29 مارچ کو ممبئی انڈینز کے خلاف ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read