پی ایم مودی
دہرادون: ملک میں کھیلوں کے سب سے بڑے ایونٹ 38ویں نیشنل گیمز کا باضابطہ آغاز منگل سے ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی میں ان کھیلوں کا افتتاح کریں گے۔ 14 فروری تک 10 ہزار سے زائد کھلاڑیوں کے درمیان 32 گیمز میں بالادستی کا مقابلہ ہوگا۔ اگرچہ کئی بڑے نام ان گیمز کا حصہ نہیں ہوں گے لیکن ان گیمز کے ذریعے نئے نام اور نئے ٹیلنٹ قومی کھیلوں کے منظر نامے پر چمکنے کے لیے تیار ہیں۔ گیمز میں 38 ٹیموں کے درمیان میڈلز کے لیے مقابلے ہوں گے۔
11 شہروں میں منعقد ہوں گے گیمز
2023 میں گوا میں ہونے والے قومی کھیل پانچ شہروں میں منعقد ہوئے تھے۔ ایتھلیٹکس کے علاوہ تیراکی، شوٹنگ، ریسلنگ، بیڈمنٹن، ہاکی، باکسنگ، ویٹ لفٹنگ، فٹ بال، ٹینس، ٹیبل ٹینس، کھو کھو اور کبڈی ان کھیلوں میں اہم کھیل ہیں۔ کلاریپایاتو، یوگاسنا، ملاکھمب، رافٹنگ نمائشی کھیل ہوں گے۔ اتراکھنڈ کے سلور جوبلی سال کے دوران منعقد ہو رہے 38ویں قومی کھیل 28 جنوری سے 14 فروری تک اتراکھنڈ کے آٹھ اضلاع کے 11 شہروں میں منعقد ہوں گے۔
کون کون ہوں گے گمیز کا حصہ
ان گیمز میں نیرج چوپڑا کے علاوہ منو بھاکر، ایشا سنگھ، اولمپک میڈلسٹ باکسر لولینا، شوٹر سوپنل کسلے، سربجوت سنگھ، وجے کمار نظر آئیں گے۔ رنر جیوتی یاراجی، شوٹر رودرکش پاٹل بھی گیمز کا حصہ ہوں گے۔ کھلاڑیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ہراساں کرنے سے بچنے کے لیے انڈین اولمپک ایسوسی ایشن اور آرگنائزنگ کمیٹی نے ٹیلی فون ہیلپ لائن شروع کی ہے۔ چیئرپرسن پی ٹی اوشا نے کہا کہ اس کے لیے نیتل نارنگ کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کی رکن دیپا مہتا ہوں گی۔
اسکولوں میں تعطیل کا اعلان
عہدیداروں نے بتایا کہ دہرادون کے ضلع مجسٹریٹ نے منگل کو 38ویں قومی کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی دہرادون آمد سے قبل اسکولوں اور آنگن واڑیوں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
سیکورٹی اور دیگر تیاریاں
افتتاحی تقریب اور گیمز کے پرامن انعقاد کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ نے کھلاڑیوں اور شائقین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


