بہار انتخابات کے حوالے سے تمام پارٹیاں سیٹوں کی تقسیم کے سلسلے میں بات چیت کرنے میں مصروف ہیں۔ اسی دوران عظیم اتحاد نے پٹنا کی دِگھا اسمبلی سیٹ سے امیدوار کھڑا کر دیا ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن اس سے پہلے ہی سی پی آئی ایم ایل (CPIML) نے امیدوار اتار کر ایک بڑا سیاسی داؤ ںکھیل دیا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ پٹنا کی دِگھا اسمبلی سیٹ کے لیے دیویا گوتم کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔
کون ہیں دیویا گوتم؟
جہاں ایک طرف عظیم اتحاد میں سیٹوں کی باضابطہ تقسیم ابھی جاری ہے، وہیں دوسری طرف انہوں نے پٹنا کی دِگھا اسمبلی سیٹ سے دیویا گوتم کو امیدوار بنا کر سیاسی بحث میں اضافہ کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ دیویا گوتم آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی ممانی زاد بہن ہیں۔ انہوں نے پٹنا یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں گریجویشن کیا، جہاں سے ان کا تعلق سیاست سے وابستہ ہوا۔ دیویا نے سال 2012 میں پٹنا یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں صدر کے عہدے پر دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ بی پی ایس سی امتحان میں کامیابی کے بعد دیویا کو سپلائی انسپکٹر کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا، لیکن انہوں نے یہ نوکری نہیں کی۔ فی الحال وہ پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور یو جی سی نیٹ کوالیفائی کر چکی ہیں۔
دیویا کے لیے آسان نہیں ہوگا
پٹنا کی دِگھا اسمبلی سیٹ بہار کی سیاست میں کافی اہم مانی جاتی ہے، اور گزشتہ دو انتخابات سے یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کا غلبہ رہا ہے۔ 2020 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے یہاں سے 97,044 ووٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔ اسی لیے یہ سیٹ بی جے پی کے لیے سیف زون سمجھی جاتی ہے۔ حالانکہ دیویا کو یہاں سے امیدوار بنا کر عظیم اتحاد نے خواتین اور نوجوان دونوں کارڈ ایک ساتھ کھیلے ہیں، لیکن یہاں سے جیت حاصل کرنا دیویا اور عظیم اتحاد کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
کب بھریں گی پرچہ نامزدگی؟
بہار انتخابات میں دیویا گوتم کے اترنے کے ساتھ ہی وہ بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ اگرچہ دِگھا اسمبلی بی جے پی کا سیف زون مانی جاتی ہے، لیکن ایک نوجوان خاتون کے میدان میں اترنے سے سیاسی ماحول میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ سماجی کاموں اور طلبہ کی سیاست سے نکل کر آئی دیویا کے پاس زمینی تجربہ بھی ہے اور تعلیمی پس منظر بھی، جو انہیں دوسرے امیدواروں سے ممتاز بناتا ہے۔ 15 اکتوبر کو دیویا پٹنا ضلع کی اس سیٹ سے اپنا نامزدگی فارم داخل کریں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
