مغربی بنگال اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بی جے پی کے رکن اسمبلی سویندو ادھیکاری کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جنوبی 24 پرگنہ کے پاتھر پرتیمہ اسمبلی حلقے کے بیراگی موڑ کے نزدیک ایک ہجوم نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ بی جے پی رہنما نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ علاقے میں غیر قانونی طور پر مقیم دراندازوں نے کیا۔ سویندو ادھیکاری مقامی کاروباری برادری کی جانب سے منعقدہ کالی پوجا کے افتتاحی پروگرام میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، اسی دوران ان کے قافلے پر حملہ ہوا۔ انہوں نے واقعے کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔ اپنے بیان میں ادھیکاری نے الزام لگایا کہ’’جنوبی 24 پرگنہ میں مجھے بار بار غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ سازش، توڑ پھوڑ اور بدنظمی کسی اور کی نہیں بلکہ ٹی ایم سی کی ضلع کونسل رکن ریکھا گاجی نے، ایس پی کوٹیشور راؤ کی مدد سے کروائی۔‘‘انہوں نے ایکس پر لکھا: ’’کم از کم سات مقامات پر میری گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی اور لال پور مدرسہ کے سامنے باقاعدہ حملہ ہوا۔‘‘ادھیکاری نے مزید کہا کہ وہ کسی سیاسی پروگرام میں نہیں جا رہے تھے بلکہ ایک ہندو کے طور پر کالی پوجا اور دیوالی کے تہوار میں شامل ہونے جا رہے تھے۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا: ’’یہ لوگ، جو زیادہ تر غیر قانونی درانداز ہیں، SIR عمل کی وجہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں خوف زدہ ہیں، اسی لیے غصہ نکال رہے ہیں۔ یہ علاقہ بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل ہے اور اسی قربت نے انہیں ٹی ایم سی کے درانداز نواز نظام کی مدد سے یہاں بسنے کا موقع دیا۔‘‘
وہ لوگ مجھے ڈرا نہیں سکتے
ادھیکاری نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا: ’’کیا مغربی بنگال میں ایک ہندو کسی مذہبی تقریب میں آزادانہ طور پر شامل نہیں ہو سکتا، بغیر شدت پسندوں کی رکاوٹ کے؟‘‘انہوں نے کہا کہ وہ پوجا کے دوران دوبارہ جائیں گے، چاہے کوئی رکاوٹ آئے یا حملہ ہو، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔یہ واقعہ مغربی بنگال کی سیاست میں ایک اور سنگین کشیدگی کا اشارہ ہے، جہاں فرقہ وارانہ اور سیاسی الزامات پہلے ہی ماحول کو گرما چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


