Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

مئی 2022 میں عدالت نے یاسین ملک کو مجرم قرار دیا تھا۔ مختلف دفعات کے تحت قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد ایک خصوصی عدالت نے دہشت گردی فنڈنگ کے معاملے میں یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ وہیں، این آئی اے نے ملک کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

راہل گاندھی نے حال ہی میں الیکشن کمیشن پربے ضابطگیوں کے سنگین الزامات لگائے تھے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے 30 رکنی وفد کوآج ملاقات کے لئے بلایا ہے۔ یہ میٹنگ آج دوپہر12 بجے مقررکی گئی ہے۔ میٹنگ سے قبل کانگریس کی جانب سے مارچ نکالا گیا۔

بنگالی مسلمانوں پر استحصال کے موضوع پر نوید حامد نے کہا کہ سب سے پہلی ذمہ داری بنگال حکومت کی ہے، لیکن بنگال حکومت نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ لیکن آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی لیگل ٹیم اس موضوع پر کام کر رہی ہے تاکہ عدالت جانے سے پہلے تمام تیاریاں مکمل کرلی جائیں۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز اور گاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے محتاط رہیں، اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قریبی تھانے کو دیں۔

تفتیش کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے نوئیڈا، غازی آباد، دہلی، گڑگاؤں، NCR میں متعدد مقامات پر موبائل ٹاورز سے ریڈیو رسیور یونٹس، بیٹریاں اور دیگر قیمتی سامان چوری کیا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ نوئیڈا، غازی آباد وغیرہ سے چوری شدہ سامان اپنے ساتھی حاتم اور محسن کے ساتھ مل کر دہلی میں بیچتے ہیں۔

وینوگوپال نے کہا کہ ہم مہارت اور قسمت کے باعث بچ گئے، مگر مسافروں کی زندگی صرف قسمت پر نہیں چھوڑی جا سکتی۔ میں ڈی جی سی اے (ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن) اور وزارتِ شہری ہوا بازی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں،

راجدھانی دہلی میں جمنا ندی کے لیے وارننگ لیول 204.5 میٹر، خطرے کی سطح 205.3 میٹر ہے اور 206 میٹر سے انخلاء شروع ہوتا ہے۔ ایسے میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر لے جانے کی مشق شروع ہو جاتی ہے۔ پرانا ریلوے پل جمنا کے بہاؤ اور سیلاب کے خطرے کی پیمائش کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک بار پھر راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ قواعد کے مطابق حلفیہ بیان دیں یا اپنے ’’غلط‘‘ الزامات پر قوم سے معافی مانگیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر الزامات کے ثبوت ہیں تو فراہم کیے جائیں، ورنہ عوام کو گمراہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ووٹوں کی لوٹ، ایس آئی آر، غیرقانونی انہدام، بنگالی مزدوروں کو نشانہ بنانے اور دہشت گردانہ بم دھماکوں پر حکومت کے دوہرے رویے کو ملک کے لئے خطرناک اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ملی تنظیموں کا وفاق سمجھا جاتا ہے۔ یہ تنظیم دعویٰ بھی کرتی رہی ہے کہ ملک کی ملی تنظیموں کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ حالانکہ اس تنظیم کو ہمیشہ انتشار کا سامنا رہا ہے۔ کبھی الگ گروپ بنانے اورکبھی دوحصوں میں منقسم کرکے قوم کومشکل میں ڈالنے کا عمل چلتا رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ایک بار پھرانتشارکا سامنا ہے۔