Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

اترپردیش میں 24 گھنٹے چلے نان اسٹاپ اسمبلی اجلاس کے دوران سماج وادی پارٹی کی ایم ایل اے پوجا پال نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جم کرتعریف کی۔ تاہم، یہ تعریف اب انہیں بھاری پڑگئی ہے۔ سماج وادی پارٹی نے انہیں پارٹی سے باہرکا راستہ دکھایا ہے۔

جموں کے کشتواڑکے چشوتی علاقے میں بادل پھٹنے سے زبردست نقصان کی اطلاع ہے۔ کشتواڑکے ڈپٹی کمشنرپنکج شرما نے بتایا کہ کشتواڑ کے چشوتی علاقے میں اچانک سیلاب آگیا ہے۔

مہاراشٹر کے 6 شہروں میں یوم آزادی کے موقع پرگوشت اورمٹن کی فروخت پرپابندی نے ایک مضبوط سیاسی تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جبکہ بی جے پی اور شندے گروپ نے اس کی حمایت کی ہے۔ وہیں نائب وزیراعلیٰ اجیت پوارنے بھی اعتراض کیا ہے۔ کھٹیک برادری نے حکم واپس لینے کا انتباہ دیا ہے، بصورت دیگربڑی تحریک چلائی جائے گی۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا کہ شکایت کرنے والے ناتھورام گوڈسے اورگوپال گوڈسے کی اولاد ہیں، جن کی تاریخ پُرتشدد سرگرمیوں سے جڑی رہی ہے۔ اس دوران راہل گاندھی نے بی جے پی لیڈر رونیت سنگھ بٹو اورترویندرسنگھ مرواہ کا بھی ذکرکیا۔

آندھرا پردیش کے سابق وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی نے راہل گاندھی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آندھرا پردیش میں ووٹنگ خامیوں پر خاموش ہیں۔ ریڈی نے ووٹوں میں 12.5 فیصد کے فرق کو سنگین بتایا۔

سابق مرکزی وزیرراجیوپرتاپ روڈی نے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کے انتخابات میں سنجیوبالیان کوشکست دی ہے۔ نشی کانت دوبے نے بالیان کی شکست کواپنی جیت قراردیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ میں کانگریس لیڈران کی شرکت ان کی بڑی کامیابی ہے۔ حالانکہ روڈی 100 سے زیادہ ووٹوں سے جیت گئے ہیں۔

راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے 12 اگست کو وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر آئندہ 15 جنوری 2026 کومنعقد ہونے والی آرمی ڈے پریڈ کی تیاریوں سے متعلق اعلیٰ سطح کی میٹنگ کی۔ اس دوران انہوں نے افسران کواس انعقاد کو شاندار طریقے سے منانے سے متعلق ضروری احکامات دیئے۔ راجستھان میں پہلی بار آرمی ڈے پریڈ ہوگی۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی نے کہا، ”گوشت کھانے اور یوم آزادی منانے کے درمیان کیا تعلق ہے؟ تلنگانہ کے 99 فیصد لوگ گوشت کھاتے ہیں۔ یہ گوشت پر پابندی لوگوں کی آزادی، رازداری، معاش، ثقافت، غذائیت اورمذہب کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔"

سرحدی کشیدگی، جیسا کہ حالیہ آپریشن سندور میں دیکھا گیا، اور بدلتے ہوئے سیکورٹی حالات نے بھارت کو مقامی دفاعی پیداوار پر توجہ بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔ ڈرونز سے لے کر توپ خانے تک

بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مقدار یو پی آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ بڑھی ہے۔ 2017-2018 میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی کل مقدار 20.71 ارب تھی، جو 2024-2025 میں بڑھ کر 228.31 ارب ہو گئی، جس کی CAGR 41 فیصد رہی۔ انہی سالوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مشترکہ مالیت 1,962 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 3,509 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی۔