Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ انڈمان اور نکوبار آئندہ 10 برسوں میں ملک کے خزانے میں بڑا حصہ ڈالیں گے ۔  امت شاہ نے کہا کہ ہمارے جزائر اب تجارت اور سیاحت کا مرکز بن رہے ہیں ۔  نئے عدالتی ضابطوں پر بھی زور دیا جا رہا ہے ۔

بی جے پی اور مہایوتی اتحاد نے بغیر کسی مخالفت کے تقریباً 68 سیٹوں پر برتری حاصل کر لی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ حکمران اتحاد نے امیدواروں کو انتخابات سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیوں اور پیسے کا استعمال کیا۔

آسام حکومت کی بھتہ اسکیموں پر سخت تنقید کرتے ہوے کانگریس پارٹی نے کہا ہے  کہ انتخابات سے پہلے بی جے پی ووٹرروں کو نئی اسکیم سے رشوت دے رہی ہے۔

مدھیہ پردیش کے اندور میں 31 دسمبر کی رات ایک نابالغ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی کوشش کی گئی۔ چار ملزمان نے نابالغ لڑکی کو دھوکے میں لے کر اس کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے چار افراد کے خلاف مقدمہ درج  کر لیا ہے۔

سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کے لیے اچھی خبر ہے۔ طویل عرصے مسلسل تیزی کے بعد آج 3 جنوری کو دہلی، لکھنؤ اور اندور کے صرافہ بازاروں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نرمی دیکھی گئی ہے۔

ممبئی میں بلند و بالا عمارتوں میں الیکٹرک وائرنگ اور ڈکٹ سے متعلق آگ لگنے کے واقعات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔ فائر بریگیڈ کے مطابق آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں اور صورتحال قابو میں ہے۔ تفصیلی جانچ کے بعد آگ کی اصل وجہ سامنے آئے گی۔

دہلی فسادات اور یو اے پی اے کے مقدمات میں گرفتار عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ وغیرہ ملزمان کو اب تک کوئی ریلیف نہیں حاصل ہو سکی ہے۔ اب سپریم کورٹ 5 جنوری کو ان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنائے گی۔

بی جے پی کو ’بنگال مخالف (بنگلا بیرودھی)’ قرار دیتے ہوئے بنرجی نے کہا کہ آنے والے انتخابات صرف بی جے پی کو ہرانے کے لیے نہیں بلکہ بنگال کو بدنام کرنے کا حساب لینے کے لیے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار وہ خود دہلی گئے، اگلی بار وزیراعلیٰ ممتا بنرجی جائیں گی۔

ماؤنوازوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائی! ایک طرف چھتیس گڑھ کے جنگلات میں سیکورٹی فورسز نے 14 ماؤنوازوں کو مار گرایا، تو دوسری طرف حیدرآباد میں انتہائی مطلوب نکسل کمانڈر دیوا بارسے نے اپنے 20 ساتھیوں کے ساتھ سرینڈر کر دیا ہے۔

فی الحال علاقے میں امن و امان برقرار ہے، تاہم انتظامی سختی کے باعث سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ شاہی جامع مسجد اور قبرستان کی زمین کا معاملہ سنبھل میں نہایت حساس سمجھا جاتا ہے۔ نوٹس جاری کر کے انتظامیہ نے اب مقامی لوگوں کو اپنی ملکیت ثابت کرنے کا موقع دے دیا ہے، جبکہ اگلا قدم 15 دن بعد اٹھایا جائے گا۔