Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

لوک سبھا الیکشن کے نتائج میں این ڈی اے گروپ نے اکثریت کے کرشمائی اعدادوشمارکو پورا کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل میٹنگوں کا دور جاری تھا اوراسی ضمن میں جمعہ کواین ڈی اے گروپ کے لیڈران نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔

اس میں بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، میسا بھارتی یادو، ہیما یادو اورامت کٹیال کے نام شامل ہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران ای ڈی نے عدالت میں الزام لگایا تھا کہ لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان کے ارکان کے ناجائز منافع کو ٹھکانے  لگانے کے لیے دو کمپنیاں بنائی گئی تھیں۔

این ڈی اے کو اس بار 293 سیٹوں کے ساتھ اکثریت ملی ہے۔ مسلسل تیسری باراین ڈی اے نے اکثریت حاصل کرکے کارنامہ انجام دیا ہے۔ ایک بارپھرسے ملک میں اس کی حکومت بن سکتی ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران ریلوے کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل وکرم جیت بنرجی نے عدالت کو بتایا کہ ریلوے کا گھاٹ کوپر میں ہورڈنگ گرنے کے واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ کیونکہ ہورڈنگ ریلوے کی زمین پر نہیں تھی۔

گہلوت نے کہا کہ یہ لاکھوں بچوں کے مستقبل اور طبی پیشے کی ساکھ کا سوال ہے، اس لیے مرکزی حکومت اور این ٹی اے کو اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس کی تحقیقات کرنی چاہیے اور ہر ایک کو انصاف ملنا چاہیے۔

این ڈی اے کو اس بار 293 سیٹوں کے ساتھ اکثریت ملی ہے۔ مسلسل تیسری باراین ڈی اے نے اکثریت حاصل کرلی ہے اور وہ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ اسی ضمن میں آج نریندرمودی کو لیڈر منتخب کیا جا رہا ہے۔

مدعی کے وکیل سنتوش پانڈے نے کہا کہ کوتوالی نگر کے گھرہاں کلا کے رہنے والے رام پرتاپ نے آج خود کو فریق بنانے کے لیے درخواست دائر کی ہے، جس پر میں نے اعتراض کیا ہے۔

اڈانی سولر کے سی ای او انیل گپتا نے کہا، "ہمیں ایک بار پھر اعلیٰ کارکردگی پر فخر محسسوس ہورا ہے ۔ہمارے میڈ اِن انڈیا سولر پی وی ماڈیولز جدید ٹیکنالوجی، پریمیم پرزوں اور بے مثال کارکردگی کے لیے اعلیٰ ڈیزائن کی مثال۔ ہم اپنے اسٹیک ہولڈرز کی مسلسل حمایت کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

لوک سبھا انتخابات 2024 میں کنگنا رناوت نے منڈی سیٹ سے کانگریس امیدوار وکرمادتیہ سنگھ کو شکست دے کر جیت کا جھنڈا لہرایا ہے۔ کنگنا وہاں سے جیت کے بعد دہلی آرہی تھیں تبھی چنڈی گڑھ ایئرپورٹ پر ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔

وستارا نے تقریباً 9 سال قبل جنوری 2015 میں اپنا تجارتی آپریشن شروع کیا تھا۔ وستارا کا شمار اس وقت ہندوستان کی معروف ہوابازی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ حکومت سے ایئر انڈیا کو حاصل کرنے کے بعد ٹاٹا گروپ نے وستارا کو اس میں ضم کرنے کی تجویز تیار کی تھی۔