سپریم کورٹ نے پیر کے روز نیشنل گرین ٹریبونل کے اس حکم کو برطرف کر دیا، جس میں اورویل فاؤنڈیشن کو تامل ناڈو اور پڈوچیری میں واقع اس کے ٹاؤن شپ میں ترقیاتی سرگرمیوں سے روک دیا تھا۔ لائیو لاء کی خبر کےمطابق جسٹس بیلا ایم ترویدی اور پرسنا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اگرچہ آئین دفعہ 14 کے تحت صاف ستھرے ماحول کے حق کی ضمانت دیتا ہے، تاہم ’’ترقی کا حق بھی بنیادی حقوق کے تحت یکساں طور پر ترجیح رکھتا ہے۔ لہٰذا ترقی کے حق اور صاف ماحول کے حق کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے پائیدار ترقی کی ضرورت ہے۔‘‘
اورویل تمل ناڈو کا ایک تجرباتی ٹاؤن شپ ہے، جس کے کچھ حصے پڈوچیری کے مرکزی علاقے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کی بنیاد 1968 میں فرانسیسی-ہندوستانی روحانی یوگا ٹیچر میرا الفاسا نے رکھی تھی، جو اپنے پیروکاروں می ’مدر‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ اورویل فاؤنڈیشن کا دفتر مرکزی وزارت تعلیم کے سرپرستی میں ایک خود مختار ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔
کیا ہے معاملہ
اپریل 2022 میں نیشنل گرین ٹریبونل نے فاؤنڈیشن کو مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے ماحولیاتی منظوری کے بغیر اپنی ترقیاتی سرگرمیاں شروع کرنے سے روک دیا تھا۔ ٹربیونل نے فاؤنڈیشن کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ وہ ٹاؤن شپ پلان تیار کرے جس میں تمام تفصیلات شامل ہوں۔‘‘ پیر کو سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹریبونل کا حکم ’’قانونی طور پر ناقابل قبول‘‘ ہے۔ بنچ کے مطابق فاؤنڈیشن نے ماحولیاتی تحفظ کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور ٹربیونل نے ترقیاتی سرگرمیوں پر روک لگا کر ’’سنگین غلطی‘‘ کی تھی۔
واضح رہے کہ نیشنل گرین ٹریبونل کا حکم نوروز کرساسپ مودی نامی ایک شخص کی طرف سے دائر درخواست پر آیا، جس نے اورویل فاؤنڈیشن کی طرف سے بڑی تعداد میں درختوں کی کٹائی کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار نے دعویٰ کیا تھا کہ اورویل ایک جنگلاتی علاقہ ہے اور فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں قدرتی ماحول کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں۔ تاہم فاؤنڈیشن نے کہا کہ اورویل ایک بین الاقوامی ثقافتی بستی کے طور پر قائم کیا گیا تھا نہ کہ ایک جنگلاتی علاقے کے طور پر۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


