تحریر:ظہور حسین بٹ
جیسے جیسے عالمی توانائی کی طلب بڑھ رہی ہے’ سَس ٹیک اننوویشنس پرائیویٹ لمیٹیڈ‘ بجلی کے استعمال کی نگرانی کرنے اور بجلی کی کھپت کو بہتر بنانے کی زیادہ ذہین طریقے فراہم کررہا ہے۔ حیدر آباد میں قائم یہ اسٹارٹ اپ کمپنی توانائی پر انحصار کرنے والی صنعتوں کو حقیقی وقت میں اپنی توانائی کے استعمال کی نگرانی کرنے اور بغیر کسی تیسرے فریق کے میٹروں پر انحصار کیے کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ میں واقع نیکسَس اسٹارٹ اپ ہب سے تربیت یافتہ ’سَس ٹیک‘ کا پیٹنٹ شدہ انٹرنیٹ آف تھنگس(آئی او ٹی ) پر مبنی نظام ’ ایماک‘ (الیکٹریکل انرجی میزرنگ ، مانیٹرنگ اینڈ کنڑول ) توانائی کے بہاؤ کی نگرانی کرتا ہے ، کمزوریوں کا پتہ لگاتا ہے اور توانائی کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو روکتا ہے جس کے نتیجے میں اخراجات میں کمی ، ضیاع کی روک تھام اور پاور گرڈ پر دباؤ کم پڑتا ہے۔
سَس ٹیک کو نیکسس اسٹارٹ اپ ہب کی معاونت بھی حاصل ہے، جو نئی کمپنیوں، جدت کاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے رابطہ سازی ، تربیت ، راہنمائی اور سرمایے تک رسائی میں مدد کرتا ہے۔
سب کے لیے اسمارٹ توانائی
’سَس ٹیک ‘ نے بڑھتی ہوئی توانائی کی مانگ کا مقابلہ سمجھ داری سے توانائی کے استعمال کے ذریعے کرنے کا واضح ہدف مقرر کیا۔ اس کی بانی اور ڈائریکٹر وجیہ کماری کاکارلابتاتی ہیں ’’ہم نے دیکھا کہ توانائی کی مؤثر کھپت میں کمی کی بڑی وجوہات میں پرانا بنیادی ڈھانچہ ، استعمال کی نگرانی کا فقدان اور صارفین میں آگاہی کی کمی شامل ہیں۔‘‘
کمپنی کی تجاویز اور اس کے مجوزہ حل توانائی کے استعمال سے متعلق صارفین کے سوچنے کے انداز کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی غیر شعوری کھپت سے شعوری اور مؤثر انتظام کی طرف منتقلی۔اس کا نمایاں مصنوع ’ای ای میک‘ وولٹیج، کرنٹ اور پاور فیکٹر جیسے برقیاتی ڈیٹا کو حقیقی وقت میں ریکارڈ کرتا ہے، جسے موبائل یا ویب ایپ کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ڈیٹا ایک محفوظ کلاؤڈ پلیٹ فارم پر محفوظ ہوتا ہے، جہاں سے صارفین کو انحرافات، زائد استعمال یا کارکردگی میں کمی سے متعلق بصیرت اور فوری تنبیہات ملتی رہتی ہیں۔
عام اسمارٹ میٹروں کے برعکس، ’ای ای میک‘ نہ صرف بجلی کے لوڈ کو کنٹرول کرنے، دور سے بجلی منقطع کرنے اور خود کاری کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اسے گھریلو صارفین سے لے کر بھاری صنعتوں تک مختلف شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کاکارلا کہتی ہیں ’’پیشگوئی پر مبنی تشخیص اور خفیہ ڈیٹا ہینڈلنگ کے ساتھ، ’ای ای میک ‘ توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے ایک فعال اور خودمختار انداز فراہم کرتا ہے۔‘‘
اگرچہ کئی اسٹارٹ اپ صرف بنیادی ڈیٹا ڈیش بورڈ فراہم کرتے ہیں، سَس ٹیک ذہانت اور خودکاری کا عنصر بھی شامل کرتا ہے۔ کاکارلاکہتی ہیں ’’ہم صارفین کو ناپنے، نگرانی کرنے، کنٹرول کرنے، حد مقرر کرنے، پاور فیکٹر کو خودکار طور پر درست کرنے، بجلی چوری کی نشاندہی کرنے اور لوڈ شیڈول (بجلی فراہمی کا نظام الاوقات مرتب کرنا)کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔‘‘
اس نظام کا ماڈیولر ڈیزائن اسے مختلف سطحوں پر بآسانی اپنانے کے قابل بناتا ہے۔ کاکارلاکہتی ہیں ’’ہم توانائی کو مرئی اور قابلِ انتظام بناتے ہیں تاکہصارفین اخراجات کم کریں، ماحولیاتی اثرات گھٹائیں اور نظام کو مزید محفوظ بنا سکیں۔ میدانی آزمائشوں میں بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔‘‘
عالمی اثر کے لیے رہنمائی
کاکارلا، سَس ٹیک کے وژن کو نکھارنے کا سہرا نیکسس کو دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’نیکسس اسٹارٹ اپ ہب نے سَس ٹیک کی اسٹریٹجک سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔‘‘ اس پروگرام کے ذریعے ٹیم کو عالمی رہنماؤں اور پالیسی ماہرین سے رابطے کا موقع ملا۔ کاکرلاباخبر کرتی ہیں ’’ہم نے صارفین کی آراء کی بنیاد پر اپنے پروڈکٹ کو بہتر بنایا، امریکہ۔ہندوستان توانائی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا، اور سیکھا کہ کس طرح ذمہ داری کے ساتھ پھیلاؤ ممکن بنایا جائے۔‘‘
سَس ٹیک کی نظریں بین الاقوامی منڈیوں، خصوصاً امریکہ پر مرکوز ہیں، جہاں وہ توانائی کے انکیوبیٹرس(نئے منصوبوں کا مرکزِ پرورش)، جامعات اور ملک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے گرڈ کی جدید کاری کے مراکز کے ساتھ اشتراک کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم ایسی توسیع پذیر، کم لاگت اور اسمارٹ توانائی ٹیکنالوجی پیش کریں جو امریکہ میں جدید نظاموں کی تشکیل کی کوششوں سے ہم آہنگ ہو۔‘‘
مستقبل کے لیے تیار حل
سَس ٹیک اختراع کے سفر پر گامزن ہے۔ اس کی حالیہ پیشکشوں میں سے ایک ’ٹرانسفارمر ہیلتھ مانیٹرنگ اینڈ کنٹرولنگ سسٹم‘ (ٹی ایچ ایم سی) ہے، جسے بینگالورو میں واقع سینٹڑل پاور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے جانچا پرکھا ہے۔
کاکارلابتاتی ہیں ’’ٹی ایچ ایم سی اسمارٹ سینسرس کے ذریعے ٹرانسفارمر کے تیل، درجہ حرارت اور لوڈ کے دباؤ کی نگرانی کرتا ہے، جو خرابیوں سے بچاؤ اور گرڈ کی مضبوطی میں مدد دیتا ہے۔‘‘ سَس ٹیک کا نیا تجزیاتی ٹول پیک لوڈکی پیش گوئی کرتا ہے اور خودکار نظام کے ذریعے توانائی کے استعمال کو بہتر بناتا ہے، جس کے نتیجے میں ترسیلی نقصانات میں کمی، سسٹم کی عمر میں اضافہ اور ایک ہوشیار اور محفوظ توانائی کے ڈھانچے کی تشکیل ممکن ہوتی ہے۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





