Bharat Express DD Free Dish

Does Jupiter protect Earth from asteroids and comets? کیا جو پیٹر ہمارے نظام شمسی کا ویکیو م کلینر ہے

زمین کی آب و ہوا میں زبردست تبدیلیاں: جوپیٹر کی چمک زمین پر سورج کی چمک سے 10,000 گنا زیادہ ہوگی،  اس سے زمین کا ایٹموسفیئر گرم ہوجائےگا اور ایٹموسفیئر کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ اس کی گرمی سے  سمندر  ابلنے لگے گا اور زندگی ایک طرح سے مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔

جوپیٹر ہمارے نظام شمسی کا ویکیوم کلینر ہے۔ خلا میں گردش  کررہے کومٹ اورایسٹرائڈ زمین سے ٹکرانے کا خطرہ ہمیشہ بنا رہتا ہے۔ سیارہ جوپیٹر اپنی کشش ثقل کی وجہ سے ان ناپسندیدہ مہمانو ں کو زمین پرپر آنے سے روکتا ہے ۔
کومٹ شو میکر لیوی نائن ، یہ کومٹ دو کلومیٹر رقبہ کا ہے اور زمین کی طرف کافی تیزی سے بڑھ رہا تھا،

1994 میں یہ جوپیٹر  سیارے سے ٹکرا گیا، یہ دھماکہ اتنا خوفناک تھا، جیسے  300  ملین ایٹم بم پھٹ گئے ہوں ۔ جوپیٹرسیارے سے ٹکرانے کے بعد اس کے 20 ٹکڑے ہو گئے۔ اس کا ملبہ جوپیٹر  سیارے کی سطح سے 3000 کلومیٹر تک پھیل گیا تھا، اس سارےکا درجہ حرارت 40 ہزار سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

اب آپ خود اس بات کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر یہ زمین سے ٹکرا جاتا ہے تو یہاں  کتنا  خوفناک  حادثہ ہوتا ، سالوں سال تک ہمارے سیارے پر اندھیرے کی چادرسی چھا جاتی اور انسان  بھی ڈائنوسار  کی طرح ختم ہوجاتے۔ اس وجہ سے جوپیٹر سیارہ ہماری زمین کی حفاظت کرتا ہے۔

 جوپیٹرسیارہ  ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے اور اس کی تعداد سورج کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ اگر یہ ستارہ بن جاتا ہے تو یہ سورج سے بہت چھوٹا ہوگا ۔
زمین کی آب و ہوا میں زبردست تبدیلیاں: جوپیٹر کی چمک زمین پر سورج کی چمک سے 10,000 گنا زیادہ ہوگی،  اس سے زمین کا ایٹموسفیئر گرم ہوجائےگا اور ایٹموسفیئر کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ اس کی گرمی سے  سمندر  ابلنے لگے گا اور زندگی ایک طرح سے مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔

زمین کی تباہی کا خطرہ: مشتری کی کشش ثقل کی قوت زمین کی کشش ثقل سے 2.5 گنا زیادہ ہے۔ یہ زمین کو سورج کے گرد اپنے مدار سے باہر نکال سکتا ہے یا اسے تباہ کر سکتا ہے۔

زمین کے مقناطیسی میدان کی تباہی: جوپیٹرکا طاقتور مقناطیسی فیلڈ زمین کے مقناطیسی فیلڈکو تباہ کر دے گا۔ اس سے زمین کا ماحول سورج کی نقصان دہ تابکاری سے خود کو  بچا نہیں پائے گا۔

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read