گیا: بہار کے گیا ضلع کے وزیرگنج تھانہ علاقے میں سردی سے بچنے کے لیے کمرے میں انگیٹھی جلا کر سونا ایک خاندان کو مہنگا پڑ گیا۔ رات کے وقت دم گھٹنے سے تین افراد کی موت ہو گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور دو بچے شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ ضلع کے وزیرگنج تھانہ کے تحت کرکیہار گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک کمرے میں سو رہے تین افراد کی دم گھٹنے سے موت ہو گئی۔ مرنے والوں میں دو معصوم بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سردی سے بچنے کے لیے گانگو مانجھی کی 60 سالہ بیوی مینا دیوی اپنے نواسے 3 سالہ سوجیت کمار اور5 سالہ نواسی انشو کماری کے ساتھ منگل کو گھر کے ایک کمرے میں انگیٹھی جلا کر سو گئی تھیں۔
کھڑکی بند ہونے کے باعث کمرے میں پھیلا دھواں
کمرے کا دروازہ اور کھڑکی بند تھے، جس کے باعث دھواں کمرے میں پھیل گیا۔ دم گھٹنے سے تینوں کی موت ہو گئی۔ اہلِ خانہ کے مطابق کمرہ دھویں سے بھر گیا تھا۔ دیر رات کام کے سلسلے میں دروازہ کھولا گیا تو تینوں بے ہوش حالت میں پائے گئے۔ شبہ ہونے پر انہیں جگانے کی کوشش کی گئی، لیکن جب کوئی حرکت نہیں ہوئی تو تینوں کو مقامی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
مختلف پہلوؤں سے جانچ کر رہی ہے پولیس
وزیرگنج کے تھانہ انچارج نیرج کمار نے بتایا کہ ابتدائی طور پر تینوں کی موت کی وجہ انگیٹھی کے دھویں سے دم گھٹنا معلوم ہو رہی ہے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہو سکے گی۔ فی الحال تینوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مگدھ میڈیکل کالج اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔
بند کمرے میں ہیٹر استعمال نہ کرنے کی اپیل
اس واقعے کے بعد گاؤں میں سوگ کی فضا ہے۔ پولیس نے بند کمرے میں انگیٹھی یا ہیٹر استعمال نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ کمرے کی کھڑکی کھلی رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اگر کمرے میں دھواں پھیل جائے یا گھبراہٹ محسوس ہو تو فوراً باہر نکلیں اور کمرے کا دروازہ اور کھڑکیاں کھول دیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
