Bharat Express DD Free Dish

A taste of Shared Prosperity: اجتماعی خوشحالی کا ذائقہ

صحت افزا نمکین لوازمات سے لے کر خوشیوں بھری مٹھائیوں تک، آہار  میں پیش کیے گئے امریکی اجزاء ہندوستانی صارفین کے ذوق و شوق میں وسعت لا رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان زرعی تجارتی تعلقات کو مستحکم کررہے ہیں۔

تحریر : چاروی اروڑا

بلیو بیری سندیش اور کرین بیری پلاؤمیں کیا  چیز قدر مشترک کا درجہ رکھتی ہے؟ دونوں ایسی لذیذ مثالیں ہیں جو امریکہ اور ہندوستان کے مابین  روز افزوں تجارتی شراکت داری  کی عکاسی کرتی ہیں۔ فروری 2025 میں جاری کردہ امریکہ اور ہندوستان کے  سربراہانِ مملکت کے مشترکہ بیان میں دونوں حکومتوں کی ترجیح کے طور پر دو طرفہ زرعی تجارت کو وسعت دینے پر زور دیا گیا ۔ خیال رہے کہ نئی دہلی میں منعقدہ بین الاقوامی خوراک اور مہمان نوازی کے میلے ’’آہار 2025‘‘ میں محکمہ زراعت کی غیرملکی زرعی خدمات (ایف اے ایس) کے زیر اہتمام قائم کردہ امریکی نمائش گاہ  شرکاء کی خاص توجہ کا مرکز بنی۔

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور جارگن کے اینڈریوز نے ’’ٹیسٹ آف امیریکہ 2025‘‘ کے عنوان سے  نمائش گاہ کا افتتاح کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے امریکہ اور ہندوستان کے درمیان تجارتی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پانچ روز تک امریکی خوراک ساز اداروں اور تجارتی کونسلوں نے مل کر یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کس طرح امریکی خوراک و مشروبات کی برآمدات ہندوستانی باورچی خانوں کا ایک قابلِ اعتماد حصہ بنتی جا رہی ہیں۔لفظ ’’آہار‘‘کے معانی ہیں: خوراک، متوازن غذا، یا جسمانی و ذہنی نشوونما کی ضرورت پوری کرنے والی غذائیت۔

نمائش گاہ میں کیلیفورنیا کے بادام ، اخروٹ ، دالیں، بلیو بیریز، کرین بیریز، پیکن اور امریکی بطخ اور ٹرکی  سے تیار شدہ مصنوعات پیش کی گئیں۔ یہ اشیاء صرف نمائش تک محدود نہیں تھیں۔ خانساماؤں نے انہی اجزاء سے روایتی ہندوستانی پکوان تیار کیے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ امریکی اجزاء مقامی ذوقِ طعام سے کس خوبصورتی کے ساتھ  ہم آہنگ ہیں۔

ہندوستانی پکوان میں امریکیاجزاء

امریکی نمائش گاہ  میں فیوژن پکوان(دو یا زیادہ مختلف کھانوں کی روایات کو یکجا کر کے تیار کیا گیا منفرد اور تخلیقی کھانا) سب کی دلچسپی کا باعث بنا جس سے یہ بات مشاہدے میں آئی کہ امریکی اجزاء کس قدر خوبصورتی کے ساتھ ہندوستان طبّاخی روایت میں ضم ہو سکتے ہیں۔ یہی موافقت بازار میں پسندیدگی میں اضافے اور تجارتی وسعت کی بنیاد ہے۔ امریکی ہائی بُش بلیو بیری کونسل کے راج کپور کے خیال میں  ہندوستانی کمپنیاں امریکی بلیو بیریز (تازہ ، منجمد اور خشک) کا استعمال بلیو بیری لسّی، بلیو بیری کاجو کتلی  اور بلیو بیری قلاقند جیسی مصنوعات میں کر رہی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں ’’ہم بڑی مقدار میں بلیو بیریز درآمد کرتے ہیں اور انہیں بڑی مقدار میں  صنعت کو فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ پرکھیں اور تجربہ کر سکیں۔ جب وہ ان نتائج سے مطمئن ہو جاتے ہیں تو پھر باقاعدگی کے ساتھ ہم سے خریداری جاری رکھتے ہیں۔‘‘ہندوستان میں امریکی کھانوں کو طویل عرصے سے فروغ دینے والے سُمِت سرن نے آہار میں امریکن پیکن کونسل اور امریکی کرین بیری انسٹی ٹیوٹ کی نمائندگی کی۔

صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’’پیکن اور کرین بیریز دونوں بہت مقبول ہو رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کرین بیری مٹھائی اور کرین بیری نمکین جیسی مثالوں کا ذکر کیا، جو امریکی اجزاء کے ساتھ تیار کیے گئے کلاسیکی ہندوستانی ناشتے ہیں اور ہندوستانی گھروں میں فیوژن پکوان کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

شیون کھنہ، جو کیلیفورنیااخروٹ کمیشن اور امریکی انڈے اور مرغی گوشت  برآمداتی کونسل کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کس طرح ہندوستانی علاقائی کھانوں میں امریکی اجزاء شامل ہو رہے ہیں۔ان کے بقول ’’ ہندوستان میں مختلف علاقوں کی مختلف پسندیدہ غذائیں ہیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی اجزاء ان کے ذائقوں میں بخوبی گھل مل جاتے ہیں ۔ انہوں نے نئی تخلیقات جیسے ٹرکی بریانی اور آسام کے بتخ سالن میں کدو کے استعمال کی طرف توجہ دلائی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اخروٹ  کی ہندوستانی مٹھائیوں میں طویل عرصے سے اہمیت رہی ہے، جیسے کیلیفورنیااخروٹ  کا حلوہ، جو مقامی پکوانوں میں ان کی فطری ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی نمائش کنندگان نے صرف اجزاء پیش نہیں کیے بلکہ امکانات کا بھی مظاہرہ کیا۔ نمائش گاہ  میں بلو بیری قلفی، نان کھٹائی، سوجی حلوہ اور یہاں تک کہ بلو بیری ڈھوکلا جیسے پکوانوں میں امریکی بلو بیریز کو شامل کیا گیا، جو معروف ہندوستانی انداز میں امریکی پیداوار کی کثیر الجہتی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

کرین بیریز بھی اتنی ہی نمایاں تھیں، جو لڈو، مودک، پاپڑی چاٹ اور کھانڈوی میں شامل کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ کلاسیکی ٹھنڈائی کو بھی کرین بیری دودھ والی ٹھنڈائی  کے ساتھ ایک نیا انداز ملا، جبکہ کرین بیری آم قلفی اور کرین بیری ناریل قلفی جیسی مٹھائیوں نے اپنے منفرد ذائقوں کے امتزاج سے توجہ حاصل کی۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح امریکی اجزاء روایت اور جدت دونوں کی حمایت کر سکتے ہیں۔

تجارتی روابط کی مضبوطی

ہندوستانی کچن  میں امریکی زرعی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی موجودگی صرف ہندوستانی گھروں میں تبدیل ہوتے ہوئے ذائقوں کی عکاسی نہیں کرتی بلکہ یہ ایک گہری معاشی شراکت داری کی علامت بھی ہے۔ جیسا کہ فروری 2025 کے امریکہ۔ہند سربراہانِ مملکت کے مشترکہ بیان سے واضح ہوگیا : دونوں حکومتوں نے زرعی تجارت کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ آہار جیسی تقریبات امریکی خوراک سازوں اور ہندوستانی کاروباریوں کو تعاون، خیالات کے تبادلے اور صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات کو اپنانے کے مواقع فراہم کر کے اس عزم کو حقیقت  کا جامہ پہناتی ہیں۔

سرن کہتے ہیں ’’مضبوط اور زیادہ لچکدار تجارتی تعلقات قائم کرنا نہایت ضروری ہے۔‘‘ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس قسم کے میلے اختراع، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں ’’خوراک کی دنیا نہایت خوبصورتی سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔‘‘

امریکی محکمہ زراعت کے مطابق مالی سال 2023 میں امریکہ نے ہندوستان کو تقریباً 1.8 ارب ڈالر مالیت کی زرعی اور متعلقہ مصنوعات برآمد کیں۔ امریکی محکمہ زراعت کی عالمی زرعی تجارت رپورٹ کے مطابقدرختوں سے حاصل ہونے والے خشک میوے، دالیں اور تازہ پھل، ہندوستان کو امریکی زرعی برآمدات کے سب سے نمایاں امکانات میں شامل ہیں۔

امریکی خشک مٹر اور دال کونسل کے ہندوستانی نمائندے سچن کھرانہ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں: ’’ٹیسٹ آف امیریکہ ہمارے لیے ایک شاندار تجربہ رہا ہے۔ یہ مہم امریکی اجناس کے پورے شعبے کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ہمیں امریکی کسانوں اور ان کی اگائی ہوئی پائیدار فصلوں پر فخر ہے۔ ایسی مہمات ہمیں ایک متحدہ موقف پیش کرنے اور ہندوستان میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔‘‘

صحت بخش ناشتے سے لے کر تہوار کی مٹھائیوں تک، امریکی اجزاء ہندوستانی صارفین کو ذائقے اور اقسام کی زیادہ وسعت فراہم کرتے ہیں، جبکہ امریکی خوراک سازوں کو نئی منڈیوں تک رسائی میں مدد دیتے ہیں۔ امریکہ اور ہندوستان میں جیسے جیسے دوطرفہ تجارت گہری ہو رہی ہے، تجارت اور سفارت کاری میں خوراک کا کردار مسلسل بڑھتا جا  رہا ہے۔

بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read