ہریانہ کے پنچکولہ سے براڑی جیسا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک ہی خاندان کے7افراد نے زہر کھا کر خودکشی کر لی۔ پولیس نے ان تمام افراد کی لاشیں ایک کار سے برآمد کر لی ہیں۔ یہ خاندان مبینہ طور پر پنچکولہ میں منعقد بابا باگیشور دھام میں ہنومان کتھا میں شرکت کے بعد واپس آرہا تھا۔
پنچکولہ میں ایک کار کے اندر سے 7 لاشیں ملی
VIDEO | Panchkula, Haryana: Seven members of a family from Dehradun found dead inside a car. Police investigating the case.
DSP Panchkula Himadri Kaushik says, “Our forensic team has reached the spot. We are analysing… scanning the car thoroughly to know the reasons behind the… pic.twitter.com/IetVgT6ojz
— Press Trust of India (@PTI_News) May 27, 2025
موصولہ اطلاع کے مطابق پنچکولہ کے سیکٹر 27 میں پیر کی رات دیر گئے ایک گھر کے باہر کار میں لاشیں ملیں تھیں، جس کے بعد مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی، پولیس موقع پر پہنچی اور سب کو اسپتال پہنچایا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پولیس نے جو کار برآمد کی ہے وہ دہرادون کی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ خاندان دہرادون کا رہنے والا تھا۔ مرنے والوں میں دہرادون کے رہنے والے 42 سالہ پروین متل، پروین کے والدین، پروین کی بیوی اور دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سمیت تین بچے شامل ہیں۔
قرض سے تنگ آکر خودکشی کر لی
واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پنچکولہ کے ڈی سی پی ہمادری کوشک موقع پر پہنچ گئی تھیں۔ اس کے علاوہ ڈی سی پی لاء اینڈ آرڈر امت داہیا نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پروین متل پر بہت زیادہ قرض تھا۔ وہ دہرادون میں ٹور اینڈ ٹریول کمپنی چلاتے تھے۔ کاروبار میں نقصان کی وجہ سے انہوں نے اپنے پورے خاندان سمیت خودکشی کر لی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس دوسرے زاویوں سے بھی معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک خودکشی نوٹ برآمد ہوا ہے۔ پولیس نے تمام لاشوں کو پنچکولہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال کے مردہ خانے میں رکھا ہے۔ فارنسک ٹیم نے موقع پر پہنچ کر تفتیش کے لیے نمونے اکٹھے کئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

