Bharat Express DD Free Dish

4 PM Breaks Digital Media, Sets New Record with 297 Million Views: ڈیجیٹل میڈیا میں فور پی ایم کا دھماکہ،297 ملین ویوز کے ساتھ بنایا نیا ریکارڈ

گزشتہ ڈیڑھ سال سے یوٹیوب کی ٹاپ رینکنگ میں برقرار ہے۔ پہلگام حملے کے بعد جب حکومت نے اس چینل پر پابندی عائد کی تھی، تو سپریم کورٹ نے اس پابندی کو ختم کر دیا۔ تب سے اس کی مقبولیت میں مزید تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ڈیٹا بینگز (Data Beings) کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ یوٹیوب پر سیاسی تبصرہ کرنے والے چینلز میں 4PM نے ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ اس مہینے چینل نے 29 کروڑ 74 لاکھ یعنی 297.4 ملین ویوز حاصل کیے، جب کہ دوسرے نمبر پر رہنے والے DB Live کو صرف 122.8 ملین ویوز ملے۔ دونوں کے درمیان 17 کروڑ سے زائد کا فرق ہے، جو یوٹیوب کی سیاست سے جڑی دنیا میں اب تک کا سب سے بڑا فرق ہے۔

کس کے پاس کتنا ویو شیئر؟

ڈیٹا بینگز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے سب کو چونکا دیا ہے۔ یوٹیوب پر سیاسی تجزیہ پیش کرنے والے چینلز میں 4PM نے ایک ایسا ریکارڈ بنایا ہے، جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس مہینے چینل کو 297.4 ملین ویوز حاصل ہوئے، جب کہ دوسرے نمبر پر DB Live کو صرف 122.8 ملین ویوز ملے۔ یہ فرق 17 کروڑ سے زیادہ ہے — یوٹیوب پر سیاسی مواد میں اب تک کا سب سے بڑا فاصلہ۔

دھرو راٹھی، بھارت سماچار، جے مہاراشٹرا نیوز اور چانکیہ ڈائیلاگز جیسے چینلز کی حصہ داری تقریباً 3 فیصد ہے، جب کہ کیپیٹل ٹی وی، پرگیہ کا پنا ، دی لائیو ٹی وی اور وی کے نیوز جیسے چینلز 2 سے 3 فیصد کے درمیان سمٹے ہوئے ہیں۔ وہیں دی دیش بھکت، دیپک شرما، Article19India اور پونیاپرسون باجپئی جیسے معروف نام بھی اس بار پیچھے رہ گئے۔

4PM پر لگی تھا بین

4PM گزشتہ ڈیڑھ سال سے یوٹیوب کی ٹاپ رینکنگ میں برقرار ہے۔ پہلگام حملے کے بعد جب حکومت نے اس چینل پر پابندی عائد کی تھی، تو سپریم کورٹ نے اس پابندی کو ختم کر دیا۔ تب سے اس کی مقبولیت میں مزید تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ایڈیٹر سنجے شرما اب نہ صرف بھارت بلکہ کئی دوسرے ممالک میں بھی ایک معروف نام بن چکے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read