صفائی مشین چوری کیس میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہیں گے۔ اعظم خان اوران کے بیٹے عبداللہ اعظم خان 18 اکتوبر 2023 سے جیل میں بند ہیں۔ وہ 16 مہینوں سے زیادہ جیل میں گزار چکے ہیں۔
ان دونوں باپ بیٹے پر نگر پالیکا پریشد رام پور کی صفائی مشین کی بازیابی کے معاملے میں ملزم تھے، جسے محمد علی جوہر یونیورسٹی کے کیمپس سے برآمد کیا گیا تھا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے اس معاملے میں محمد اعظم خان اور عبداللہ اعظم خان دونوں کو ضمانت دے دی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کئی قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے ان کی رہائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اعظم خان کے وکیل ناصر سلطان نے کہا کہ ضمانت ملنے کے باوجود دونوں کے خلاف کئی اور مقدمات زیر التوا ہیں، جس کی وجہ سے ان کی فوری رہائی مشکل ہے۔ ناصرسلطان نے کہا کہ اعظم خان کو ڈنگر پور میں سرکاری اراضی پر ناجائز تجاوزات کے نام پر درجنوں مکانات کو زبردستی خالی کرانے اور مسمار کرنے کے معاملے میں دس اور سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
وکیل ناصر سلطان کے مطابق اس کے علاوہ ان کے خلاف اب بھی نصف درجن سے زائد مقدمات چل رہے ہیں۔ اعظم خان اس وقت دشمن جائیداد(enemy property) کیس میں سیتا پور جیل میں اپنی سزا کاٹ رہے ہیں، جب کہ عبداللہ اعظم خان ہردوئی جیل میں بند ہیں۔
وکیل ناصر سلطان نے کہا کہ اعظم خان کو دی گئی سزا کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل زیر التوا ہیں، اس کے علاوہ اعظم خان کچھ دیگر کیسوں میں زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپیل کا فیصلہ ہونے اور ان مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد ہی ان کی رہائی ممکن ہوگی۔
کیا ریلیز میں تاخیر کی وجہ یہی ہے؟
وکیل ناصر سلطان کا کہنا ہے کہ جہاں تک عبداللہ اعظم خان کا تعلق ہے ،سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود دشمن جائیداد (enemy property)کیس میں ملوث ہونے کی وجہ سے ان کی رہائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
وکیل ناصر سلطان نے کہا، “عبداللہ اعظم خان نے رام پور کی ایم پی-ایم ایل اے خصوصی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے، جس کی سماعت جمعہ کو ہوگی۔ اگر عدالت انہیں ضمانت دے دیتی ہے تو وہ جیل سے رہا ہو سکتےہیں۔
2017 میں سماج وادی پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے محمد اعظم خان اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف 100 سے زیادہ قانونی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



