مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے ہفتہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے اورنگ زیب کےمقبرے کے حوالے سے بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ان کی حکومت کا نہیں بلکہ تمام لوگوں کا سوال ہے کہ اورنگ زیب کے مقبرے (قبر) کو ہٹایا جائے۔
قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون کے مطابق اس معاملے میں کچھ کام کرنا ہوگا، کیونکہ یہ مقبرہ کانگریس کے دور میں محفوظ تھا اور تب سے یہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے تحفظ میں ہے۔ فڈنویس نے یہ بھی کہا کہ مقبرے کا تحفظ ایک قانونی عمل کے تحت کیا گیا تھا، اور اس کو ہٹانے یا اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قانون کے مطابق ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ سی ایم فڑنویس ممبئی میں ‘شری گرو تیگ بہادر جی مہاراج’ کے 350 ویں یوم شہادت کے موقع پر منعقد ‘گرمت سماگم’ پروگرام میں پہنچے تھے، جہاں انہوں نے یہ بیان دیا۔ ان کا یہ بیان ریاست میں اورنگ زیب کے مقبرے پر بڑھتے ہوئے تنازعہ کے درمیان آیا ہے، کئی سیاسی اور مذہبی گروہوں نے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
غور طلب ہے کہ دو دن پہلے ہندو جنجاگرتی سمیتی کی ایک آر ٹی آئی کے تحت یہ معلومات سامنے آئی تھیں کہ مرکزی محکمہ آثار قدیمہ نے 2011 سے 2023 تک اورنگ زیب کے مقبرے کی دیکھ بھال پر تقریباً 6.5 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ اس معاملے کے حوالے سے کمیٹی نے سوال اٹھایا تھا کہ اورنگ زیب کے مقبرے کی دیکھ بھال کے لیے اتنے پیسے کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں، دوسری طرف سندھو درگ قلعے پر واقع راج راجیشور مندر کی دیکھ بھال کے لیے ایک سال میں صرف 6 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔
ہندو جنجاگرتی سمیتی نے الزام لگایا تھا کہ مرکزی محکمہ آثار قدیمہ اورنگ زیب کے مقبرے کی دیکھ بھال پر اتنا پیسہ خرچ کر رہا ہے جب کہ دیگر مذہبی مقامات کی دیکھ بھال پر اتنی ترجیح نہیں دی جا رہی ہے۔ کمیٹی نے اسے امتیازی قرار دیا اور حکومت سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
