ملک کو ان مولویوں اور علما کی ضرورت نہیں جو مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں۔مذہبی رہنماؤں کو مسجدوں تک محدود رہنا چاہیے، نہ کہ وہ سیاست کی سمت طے کریں۔مسلم خواتین کو عزت، تعلیم اور برابری کے حقوق ملنے چاہئیں۔
ایسے علما و مذہبی رہنما جو سیاست کو مذہب کی بنیاد پر چلاتے ہیں، وہ درحقیقت نہ صرف جمہوریت کے اصولوں کو مجروح کرتے ہیں بلکہ مسلم سماج کو بھی ایک مخصوص دائرے میں محدود کر دیتے ہیں۔ مذہب کا کام روحانی رہنمائی ہے، نہ کہ سیاسی ایجنڈے بنانا۔ مساجد عبادت کے لیے ہیں، نہ کہ سیاسی نظریات کے فروغ کے مراکز۔
🧵 Thread 5
आज भारत को मध्यमार्गी और प्रगतिशील मुस्लिम नेतृत्व की आवश्यकता है।
देश को उन मुल्लाओं और मौलवियों की आवश्यकता नहीं है, जो धर्म के नाम पर राजनीति करते हैं। धार्मिक नेताओं को मस्जिदों तक सीमित रहना चाहिए, न कि राजनीति तय करनी चाहिए।
मुस्लिम महिलाओं को सम्मान, शिक्षा…
— Rajeshwar Singh (@RajeshwarS73) August 22, 2025
سماج کو پیچھے لے جانے والی روایات اور پابندیاں اب ناقابلِ قبول ہیں۔سچا قائد وہی ہےجو خود احتسابی کرے اور یہ تسلیم کرے کہ جہالت اور انتہاپسند سوچ نے مسلم معاشرے کی ترقی کو روکے رکھا ہے۔
معتدل مسلمانوں کوآگے آ کر اپنی آواز بننا ہوگا:آمرانہ ذہنیت کی مخالفت کرنا ہوگی،خواتین دشمن رسم و رواج کو مسترد کرنا ہوگا،تعلیم، روزگار اور بھارت کی ترقی سے کمیونٹی کو جوڑنا ہوگا۔
مستقبل صرف اُن کا ہے جو ترقی پسند ہیں،نہ کہ اُن پرانی زنجیروں کا جو معاشرے کو جکڑے ہوئے ہیں۔
#اصلاح #برابری
#مسلم_نوجوان
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





