بھارت کی آبادی 100 کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔ آج بھی ملک میں بہت سے ایسے لوگ ہیں، جو دن میں دو وقت کا کھانا بھی مناسب طریقے سے نہیں کھا پاتے۔ ایسے لوگوں کے لیے حکومتِ ہند کی نیشنل فوڈ سیکورٹی اسکیم کے تحت سستے داموں یا مفت راشن مہیا کیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کا فائدہ اٹھانے کے لیے راشن کارڈ کا ہونا لازمی ہے۔ جن لوگوں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہوتا، وہ اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
اگر آپ بھی راشن کارڈ ہولڈر ہیں، تو فوراً ایک اہم کام کروانا ضروری ہے، ورنہ آپ کو یہ فائدہ ملنا بند ہو سکتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام راشن کارڈ سے نہ کٹے، تو یہ کام جلد مکمل کر لیں۔ حکومت نے اس کے لیے باقاعدہ گائیڈلائنز جاری کر دی ہیں۔
کن لوگوں کا نام راشن کارڈ سے کاٹ دیا جائے گا؟
حکومت نے راشن کارڈ کے لیے سخت اصول نافذ کر دیے ہیں۔ نئی گائیڈلائنز کے مطابق جن راشن کارڈ ہولڈرز نے ابھی تک ای-کے وائی سی (e-KYC) نہیں کروایا ہے، ان کا نام راشن کارڈ سے ہٹا دیا جائے گا۔ حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ e-KYC لازمی ہے تاکہ راشن کا فائدہ صرف انہی لوگوں کو ملے، جو اس کے اصل حقدار ہیں۔ بغیر e-KYC کے دھوکہ دہی اور گڑبڑ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
اسی وجہ سے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام راشن کارڈ ہولڈرز کے لیے e-KYC کروانا لازمی ہے۔ اگر آپ نے ابھی تک یہ عمل مکمل نہیں کیا ہے تو جلد از جلد مکمل کروا لیں، ورنہ آپ کا نام کاٹا جا سکتا ہے۔
یہ طریقہ اختیار کریں:
راشن کارڈ کی e-KYC کروانے کے لیے سب سے پہلے اپنے قریبی راشن ڈیلر یا لوک سیوا مرکز (عوامی خدمت مرکز) پر جائیں۔ وہاں آدھار کارڈ کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق کروانی ہوگی۔ کئی ریاستوں میں یہ سہولت آن لائن پورٹل کے ذریعے بھی فراہم کی گئی ہے۔ آپ موبائل یا کمپیوٹر سے لاگ ان کرکے آدھار نمبر ڈالیں اور OTP کے ذریعے e-KYC مکمل کریں۔
جن لوگوں کو فنگرپرنٹ یا OTP ویری فکیشن میں مشکل پیش آ رہی ہے، وہ آفلائن سینٹر پر جا کر آسانی سے یہ عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ صرف e-KYC مکمل ہونے کے بعد ہی راشن کارڈ سے ملنے والی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
حکومت نے e-KYC کی آخری تاریخ بھی مقرر کی ہے، اس سے پہلے یہ کام مکمل کرنا ضروری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


