مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ معروف سیاسی خاندان “ٹھاکرے” کے دو اہم چہرے، ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے، طویل سیاسی اختلافات کے بعد ایک بار پھر متحد ہو کر میدانِ سیاست میں اترنے جا رہے ہیں۔ ان کی جماعتیں – ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا (یو بی ٹی) اور راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) – نے بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
سیاسی اتحاد کی تفصیلات
شیو سینا (یو بی ٹی) کے سینئر رہنما سنجے راوت نے اعلان کیا کہ دونوں پارٹیاں مل کر ممبئی، تھانے، ناسک اور کلیان-ڈومبیولی میں بلدیاتی انتخابات لڑیں گی۔ یہ اتحاد خاص طور پر مراٹھی ووٹرز کو مرکز میں رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے، جو ان علاقوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔
سنجے راوت کا بیان
سنجے راوت نے اپنے بیان میں کہا:”راج اور ادھو ٹھاکرے کی اصل طاقت مرہٹی عوام کی یکجہتی ہے۔ اب کوئی بھی طاقت ‘مرہٹی مانُس’ کی لوہے جیسی یکجہتی کو توڑ نہیں سکتی۔”
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں دونوں لیڈران نے مرہٹی زبان کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر احتجاج کیا تھا، جس کی بدولت حکومت کو اسکولوں میں ہندی زبان کی لازمی حیثیت واپس لینا پڑی تھی۔
13 سال بعد راج ٹھاکرے کی ماتوشری آمد
راج ٹھاکرے حال ہی میں 13 سال بعد ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ ’ماتوشری‘ پہنچے، جہاں انہوں نے ادھو ٹھاکرے کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔ اس ملاقات نے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع کر دیں، اور اب دونوں کے درمیان سیاسی اتحاد کی خبروں نے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نیا جوش پیدا کر دیا ہے۔
بی جے پی کا سخت ردعمل
دوسری جانب بی جے پی نے اس اتحاد پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیو سینا (یو بی ٹی) کو مراٹھی ووٹروں کی یاد صرف انتخابات کے وقت آتی ہے۔ بی جے پی کے رہنما گِریش مہاجن نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں مراٹھی ووٹرز بی جے پی کے ساتھ تھے اور اب انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح بی جے پی کے ایم ایل اے پروین دَرکر نے اس اتحاد کو صرف سنجے راوت کی “قیاس آرائی” قرار دیا۔
انتخابی نتائج کا اثر
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ نیا اتحاد میدانِ سیاست میں کس قدر کامیاب ہوتا ہے اور مرہٹی ووٹرز کس رخ اختیار کرتے ہیں۔ بظاہر، یہ اتحاد مہاراشٹر کی انتخابی سیاست کو ایک نیا رنگ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر واقعی ادھو اور راج ٹھاکرے متحد ہو کر مضبوطی سے الیکشن لڑتے ہیں تو یہ بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


