کو سپریم کورٹ میں منگل 18 فروری 2025کیس کی سماعت کے دوران، یوٹیوبر رنویر الہ آبادیہ کو سرزنش کی گئی اور پوچھا گیا کہ اس نے جس قسم کی بات کی ہے اس میں ہم ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ 16 فروری کو رنویر الہ آبادیہ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ملک بھر میں ان کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز کوایک ساتھ جوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ رنویر نے یوٹیوب شو ‘انڈیاز گوٹ لیٹنٹ’ کے ایک ایپی سوڈ میں الہ آباد کا دورہ کیا تھا اور اس دوران انہوں نے کچھ ایسے تبصرے کیے جس سے ملک میں کھلبلی مچ گئی۔ ان پر فحش کامیڈی کرنے کا الزام لگا تے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
جسٹس سوریا کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ کیس کی سماعت کر رہی تھی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے رنویر الہ آبادیہ سے پوچھا، ‘صرف اس لیے کہ آپ مشہور ہو گئے ہیں، کیا آپ کے پاس کچھ کہنے کا لائسنس مل گیا ہے؟ والدین کے بارے میں فحش باتیں کہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے دماغ میں کچھ گندگی بھری ہے۔ اس دوران رنویر الہ آبادیہ کے وکیل ابھینو چندر چوڑ نے کہا کہ درخواست گزار کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ زبان کاٹ کر لانے والے کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
رخواست گزار کے دلائل پر عدالت نے کہا کہ اس شخص کو خبروں میں رہنے کا شوق ہے۔ دھمکی کا اعلان کرنے والے کو بھی شاید ایسا ہی شوق ہے۔ عدالت نے کہا کہ رنویر الہ آبادیہ نے جو کچھ کہا ہے، اس پر ان کے والدین اور بہنیں سب شرمندہ ہوں گے۔ عدالت نے رنویر الہ آبادیہ کی گرفتاری پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے کہا، ‘ہم نوٹس جاری کر رہے ہیں۔ فی الحال تھانے، جے پور اور گوہاٹی میں درج ایف آئی آر میں گرفتاری پر پابندی ہے۔ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں۔ تفتیشی افسر کے بلانے پر پیش ہوں۔ اس معاملے میں کہیں بھی کوئی دوسری ایف آئی آر درج نہیں ہونی چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر درخواست گزار کو لگتا ہے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے تو وہ پولیس سے مدد لے سکتا ہے اور رنویر کو اپنا پاسپورٹ تھانے پولیس اسٹیشن میں جمع کرانا ہوگا۔ انڈیاز گوٹ لیٹنٹ کے اس شو میں رنویر الہ آبادیہ کے ساتھ سمے رائنا، اشیش چنچلانی، اپوروا مکھیجا بھی موجود تھے۔ ان کے خلاف بھی مقدمات درج ہیں۔ درحقیت شو کی تمام ایپی سوڈیوٹیوب سے ہٹا دی گئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


