Bharat Express DD Free Dish

Acharya Pramod Krishnam on IIT Baba: پرمود کرشنم نے آئی آئی ٹی بابا  کوجوکر بتایا، کہا- سناتن میں ایسی بکواس چیزوں کی گنجائش نہیں

آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا، “پاگلوں کی بھی فین فالوونگ ہوتی ہے۔ دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، لیکن جہاں تک میں سناتن کو سمجھتا ہوں

 کالکی پیتھادھیشور اور کانگریس کے سابق لیڈر آچاریہ پرمود کرشنم نے آئی آئی ٹی بابا کو جوکر کہا ہے۔ پرمود کرشنم نے کہا، “اگر کوئی پاگل شخص خود کو بابا کہنا شروع کردیا یا میڈیا اسے بابا کہنا شروع کردے تو وہ بابا کیسے ہو گیا؟ وہ بابا نہیں بلکہ بدمعاش ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میڈیا اسے اتنی اہمیت کیوں دیتا ہے۔ سناتن کی اپنی روایت ہے، مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح کے مذاق کرنے والوں کے بارے میں کیوں بات کی جاتی ہے۔”

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  آئی آئی ٹی بابا کی سوشل میڈیا پر بہت بڑی فین فالوونگ ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ سوشل میڈیا پر آئی آئی ٹی بابا کو فالو کرتے ہیں۔ آچاریہ پرمود کرشنم نے کہا، “پاگلوں کی بھی فین فالوونگ ہوتی ہے۔ دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں، لیکن جہاں تک میں سناتن کو سمجھتا ہوں، سناتن میں اس طرح کی بکواس، حماقتوں اور مسخرئے پن کی کوئی اجازت یا گنجائش نہیں ہے۔”

3 مارچ 2025 کو جے پور پولیس نے آئی آئی ٹی بابا کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا ،جو مہا کمبھ سے چرچہ  میں آئے تھے، این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات کے تحت۔ پولیس کو بابا کے پاس سے گانجہ ملا تھا۔ جس کی بنیاد پر یہ مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بابا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا اور پولیس پر سختی کا الزام لگایا تھا۔ اس سے پہلے اس نے پولیس کے سامنے خودکشی کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ آئی آئی ٹی بابا کا نام ابھے سنگھ ہے۔ مبینہ طور پر اس نے آئی آئی ٹی بمبئی سے ایرو اسپیس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ مبینہ طور پر ابھے سنگھ نے کینیڈا میں اپنی زیادہ تنخواہ والی نوکری چھوڑ دی اور سنیاس (تیگ) کا راستہ اختیار کیا۔ اس غیر معمولی یاترانے انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ 30 سالہ ابھے نے اپنے شاندار کیریئر کو چھوڑکر اور سنیاسی ہونے کے بعد کافی مقبولیت حاصل کی۔

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read