کٹھمنڈو: نیپال کی سیاست میں ایک نیا موڑ آ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی اور کرپشن کے خلاف Gen-Z نوجوانوں کی زبردست تحریک کے بعد پی ایم کے پی شرما اولی کو بالآخر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ صورتِ حال اس قدر بگڑ چکی تھی کہ ملک میں فوج نے عارضی طور پر اقتدار سنبھال لیا ہے اور ایک عبوری حکومت کے قیام کی کوششیں جاری ہیں۔
استعفے کے بعد اولی کا Gen-Z کے نام خط
استعفے کے بعد پہلی بار سابق پی ایمکے پی اولی نے شیوپوری میں احتجاج کر رہے نوجوانوں کو ایک تحریری پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا:”سرکاری دفاتر میں آگ زنی اور توڑ پھوڑ کوئی اچانک واقعہ نہیں ہے۔ تمہارے معصوم چہروں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔”
اولی نے پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا اور کہا:”بچوں کی معصوم ہنسی مجھے ہمیشہ متاثر کرتی ہے۔”
اولی نے اپنے آپ کو جمہوریت اور امن کا حامی قرار دیا
اولی نے اپنے آپ کو جمہوریت اور امن کا حامی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ: بولنے، چلنے پھرنے اور سوال کرنے کا حق ہی جمہوریت کی روح ہے اور یہی میری زندگی کا مقصد رہا ہے۔تاہم، انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کچھ طاقتیں Gen-Z نوجوانوں کو تشدد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
کیا نیپال کو پہلی خاتون پی ایم ملنے والی ہے؟
اب سب کی نظریں سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی پر جمی ہوئی ہیں، جو کہ عبوری پی ایم کے لیے سب سے مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئی ہیں۔کٹھمنڈو کے میئر بالین شاہ نے بھی ان کی کھلے عام حمایت کر دی ہے۔سشیلا کارکی نے اعلان کیا ہے کہ: میں حکومت کی قیادت کے لیے تیار ہوں کیونکہ Gen-Z نوجوان مجھے پسند کرتے ہیں اور مجھ پر اعتماد کرتے ہیں۔
نیپال میں یہ سیاسی بحران صرف حکومت کی تبدیلی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ملک میں نوجوانوں کی بیداری اور سویلین آوازوں کی طاقت کا واضح اظہار ہے۔ فوجی مداخلت کے باوجود، جمہوریت کی بحالی اور شفاف قیادت کے لیے آوازیں تیز ہو رہی ہیں۔ اگر سشیلا کارکی کو عبوری حکومت کی کمان سونپی جاتی ہے تو نیپال کی سیاست میں یہ ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



