پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان پاکستانی رکن پارلیمنٹ شیر افضل خان مروت کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کافی وائرل ہو رہی ہے۔ ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو وہ کیا کریں گے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ جنگ ہوتی ہے تو بھاگ کر انگلینڈ چلا جاؤں گا۔ یوزر نے ان کے اس بیان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’جب ارکان پارلیمنٹ خود ہی بھاگنے کا سوچ رہے ہوں گے تو فوجیوں کے حوصلے کیسے بلند ہوں گے؟
Pakistaniyon ki fat ke char ho gayi hai🧵
Journalist : Aapko nahi lagta Modi ko thoda pichhe hatna chahiye
Sher Afzal Khan Marwat, a lawyer and senior #PTI leader : Modi kya meri Khala ka beta hai, jo mere kehne pe ruk jayega😂
Journalist : Agar india ne attack kar diya to?… pic.twitter.com/jNu5H3lzQ1
— KashmirFact (@Kashmir_Fact) April 30, 2025
وائرل ویڈیو کے ایک اور حصے میں صحافی نے مروت سے سوال کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو تحمل کا مظاہرہ کیسے کرنا چاہیے۔ اس پر انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا مودی میری خالہ کے بیٹے ہیں، جو میرے کہنے سے پیچھے ہٹ جائیں گے ۔ مروت کسی زمانے میں عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کے اہم رکن تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے پارٹی پر تنقید شروع کر دی۔ انہی بیانات کی وجہ سے عمران خان نے انہیں پارٹی عہدوں سے ہٹا دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی ایک مثال ہے کہ پاکستانی سیاست میں کس حد تک اندرونی عدم استحکام کس قدر موجود ہے۔
بھارت نے سخت قدم اٹھا لیا
جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں 26 سیاحوں کی جانیں گئیں۔ حملے کے فوراً بعد بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے کہا کہ اس کے پیچھے پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ حملے کے بعد بھارت نے تین بڑے محاذوں پر پاکستان پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ بھارت نے 1960 کے تاریخی سندھ آبی معاہدے کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، جس سے پاکستان کے آبی وسائل شدید متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت نے پاکستان سے ہر قسم کی درآمدات، ڈاک، پارسلز اور شپنگ پر پابندی لگا دی ہے۔ اب کوئی پاکستانی جہاز بھارتی بندرگاہوں پر نہیں آ سکے گا۔ بھارت نے تمام مختصر مدت کے پاکستانی ویزے منسوخ کر دیے ہیں اور انہیں ملک چھوڑنے کو کہا ہے۔
پاکستانی رکن پارلیمنٹ کے دل میں بھارتی فوج کا خوف
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



