Bharat Express DD Free Dish

سیاست

جب آئین بنایا گیا تو دستور ساز اسمبلی نے فیصلہ کیا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر کوئی ریزرویشن نہیں ہوگا۔ لیکن، 10 سال پہلے ان لوگوں (کانگریس) نے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کرناٹک میں بھی ایسا کیا ہے۔

ویڈیو منظر عام پر آنے پر سواتی مالی وال نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اس سیاسی ہٹ مین نے خود کو بچانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ سی بی آئی اور ای ڈی دونوں ایجنسیاں امندیپ ڈھل کے خلاف تحقیقات کر رہی ہیں۔ امندیپ ڈھل نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔جس میں نچلی عدالت نے سی بی آئی اور ای ڈی دونوں معاملوں میں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

وزیر خزانہ اور بی جے پی لیڈر نرملا سیتا رمن نے کہا کہ سواتی مالی وال پر حملہ کا واقعہ 13 مئی کو سامنے آیا۔ لیکن چار دن گزرنے کے بعد بھی وزیر اعلیٰ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ انہیں معافی مانگنی چاہیے۔

ذرائع کی مانیں تو ایس پی ابھی تک اس معاملے پر کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہی ہے ۔ جہاں ایک طرف وہ نتائج کا انتظار کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف انڈیا بلاک کے دیگر لیڈروں کی رائے کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق دہلی پولیس کی ٹیم جمعرات کی رات ویبھو کمار کو حراست میں لینے کے لیے ان کے گھر پہنچی۔ اس دوران وہ گھر پر نہیں ملے  لیکن ان کی اہلیہ وہاں موجود تھیں۔ ان سے ویبھو کمار کے مقام کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر پی او کے سے وہ لوگ یہاں آتے ہیں تو وہ یہاں کے مسلمانوں کو کہاں بھیجیں گے۔ پہلے یہاں کے مسلمانوں کی عزت کرنا سیکھو پھر وہاں سے لوگوں کو لانے کی بات کرو۔

تیجسوی یادو نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ نتیش کمارکا جسم این ڈی اے کے ساتھ ہے لیکن ان کا دماغ ہمارے ساتھ ہے۔ نتیش این ڈی اے میں خوش نہیں ہیں۔ نتیش چچا کا آشیرواد میرے ساتھ ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد اب مکیش ساہنی نے بھی بڑا اشارہ دیا ہے۔

دہلی پولیس ذرائع کے مطابق سواتی مالیوال نے پیر (13 مئی) کا پورا واقعہ پولیس کو بتایا۔ اس نے پولیس کو ان حالات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جس میں اس نے پی سی آر کال کی۔ اب پولیس نے سواتی کے بیانات کی بنیاد پر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

میرے اشاروں کو سمجھیے، ایسے اسباب پیدا ہوگئے ہیں ،ایسی سنگین غلطیاں ہوئی ہیں ،ایسے ایسے راز فا ش ہوئے ہیں  کہ جن کے ہاتھ میں ملک نہ جائے تو ملک ترقی کرے گا، ایسی کچھ غلطیاں ،ایسی حرکتیں اور جرائم منظرعام پر آگئے ہیں کہ ملک کے عام لوگ جو عام حالات میں شاید انہیں کو ووٹ دیتے ،وہ بھی اب توبہ توبہ کررہے ہیں ۔