Bharat Express DD Free Dish

Congress MP Sudha’s Chain Snatched In Delhi’s Chanakyapuri: دلّی کی سڑکیں غیر محفوظ ، تمل ناڈو کی رکن پارلیمنٹ سدھا رام کرشنن چین اسنیچنگ کی شکار

تمل ناڈو کے مائیلا دتھورائی لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ آر سدھا رام کرشنن ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کی اطلاع ایک خط کے ذریعے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دی ہے۔

ملک کے دارالحکومت نئی دہلی کے چانکیہ پوری علاقے میں ایک سنگین واقعہ پیش آیا ہے۔ بدمعاشوں نے رکن پارلیمنٹ سدھا رام کرشنن کی سونے کی چین چھین لی ہے۔ واضح رہے کہ دہلی کی چانکیہ پوری علاقہ ایک ہائی سیکورٹی زون مانا جاتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ،جب رکن پارلیمنٹ سدھا رام کرشنن صبح چہل قدمی کے لیے نکلی ہوئی تھیں۔ وہ تمل ناڈو بھون میں رہتی ہیں۔ ادھر دہلی پولیس نے اس معاملے میں مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔

رکن پارلیمنٹ سدھا رام کرشنن نے امت شاہ کو خط لکھا

بتایا گیا ہے کہ تمل ناڈو کے مائیلا دتھورائی لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ آر سدھا رام کرشنن ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کی اطلاع ایک خط کے ذریعے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو دی ہے۔ رکن پارلیمان سدھا نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ آج صبح چانکیہ پوری علاقے میں پولینڈ کے سفارتخانے کے قریب ان کی سونے کی چین چھین لی گئی، اور اس واقعے میں انہیں چوٹیں بھی آئیں۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے گزارش کی ہے کہ افسران کو ہدایت دی جائے کہ مجرم کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کیا جائے۔

اپوزیشن کا حکومت پر حملہ

چین چھیننے کے اس واقعے کے بعد اپوزیشن نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج نے دہلی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس”  پر لکھا:”دہلی میں تمل ناڈو کی رکن پارلیمان ایم سدھا کے ساتھ جھپٹ مار ہوئی، یعنی ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کے ساتھ صبح 6 بجے کی مارننگ واک کے دوران چین اسنیچنگ کی واردات ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ موٹر سائیکل سوار بدمعاشوں نے سونے کی چین چھینی اور فرار ہو گئے۔ حالانکہ دہلی میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دہلی میں چین اور موبائل چھیننا اتنا عام ہو گیا ہے، کہ لوگ اب پولیس میں FIR تک درج نہیں کرواتے۔ انہیں معلوم ہے کہ کچھ نہیں ہوگا، الٹا وقت ضائع ہوگا۔ اس میں مکمل قصور پولیس کا بھی نہیں ہے۔ دہلی پولیس میں ہزاروں عہدے خالی پڑے ہیں اور حکومت بھرتیاں نہیں کرنا چاہتی۔”

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read