جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے بدھ کو چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہیں صدر دروپدی مرمو نے حلف دلایا۔ جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی آج ہندوستان کے 52ویں چیف جسٹس کے طور پرحلف لیا۔ موجودہ چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی میعاد 13 مئی کو ختم ہوئی۔۔ جسٹس گوائی کا نام سینئر لسٹ میں سی جے آئی کھنہ کے بعد تھا۔ اسی لیے جسٹس کھنہ نے ان کانام آگے بڑھایا۔ حالانکہ ان کی مدت کار صرف 7 ماہ کی ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ان کے پروفائل کے مطابق، جسٹس گوائی کو 24 مئی 2019 کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ترقی دی گئی تھی۔ ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ 23 نومبر 2025 ہے۔
#WATCH | दिल्ली: भारत के मुख्य न्यायाधीश भूषण रामकृष्ण गवई ने भारत के 52वें मुख्य न्यायाधीश के रूप में शपथ ली। उन्होंने राष्ट्रपति भवन में राष्ट्रपति द्रौपदी मुर्मू, प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी, उपराष्ट्रपति जगदीप धनखड़, पूर्व राष्ट्रपति रामनाथ कोविंद और अन्य गणमान्य व्यक्तियों का… pic.twitter.com/rYGzYK52KP
— ANI_HindiNews (@AHindinews) May 14, 2025
جسٹس گوائی نے اپنے قانونی کیریئر کا آغاز 1985 میں کیا
جسٹس گوائی 24 نومبر 1960 کو مہاراشٹرکے امراوتی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے قانونی کیریئر کا آغاز 1985 میں کیا۔ 1987 میں بامبے ہائی کورٹ میں آزادانہ پریکٹس شروع کی۔ اس سے قبل انہوں نے سابق ایڈوکیٹ جنرل اور ہائی کورٹ کے جج آنجہانی راجہ ایس بھوسلے کے ساتھ کام کیا۔1987 سے 1990 تک بامبے ہائی کورٹ میں پریکٹس کی۔ اگست 1992 سے جولائی 1993 تک بامبے ہائی کورٹ کے ناگپور بنچ میں اسسٹنٹ گورنمنٹ پلیڈر اور ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر کے طور پر تقرر ہوئی۔ 14 نومبر 2003 کو بامبے ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر ترقی دی گئی۔ 1202 نومبر کو بامبے ہائی کورٹ کے مستقل جج بنے۔
جسٹس گوائی دوسرے دلت سی جے آئی بن گئے، انہوں نے نوٹ بندی کو جائز قرار دیا تھا
جسٹس گوائی ملک کے دوسرے دلت چیف جسٹس بن گئے۔ ان سے پہلے جسٹس کے جی بالاکرشنن چیف جسٹس آف انڈیا بنے۔ جسٹس بالاکرشنن سال 2007 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔وہ پانچ ججوں کی اس بنچ کے رکن تھے جس نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے مرکز کے 2019 کے فیصلے کو متفقہ طور پر برقرار رکھا۔
یہ بھی پڑھیں:’ایک وقت بہت پُرچیلنجزتھا، لیکن آج میں بہت خوش ہوں…‘، الوداعی تقریر میں جذباتی ہوگئے چیف جسٹس
جسٹس گوائی نے ایک اور پانچ ججوں کی بنچ میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، جس نے سیاسی فنڈنگ کے لیے استعمال ہونے والے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو ختم کر دیا۔وہ اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے 4:1 کی اکثریت سے مرکز کے 1000 اور 500 روپے کے کرنسی نوٹوں کے 2016 کے نوٹ بندی کو برقرار رکھا۔ایک اور بڑے فیصلے میں جسٹس گوائی سات ججوں کی اس آئینی بنچ میں شامل تھے جس نے 6:1 کی اکثریت سے فیصلہ دیا کہ ریاستوں کو درج فہرست ذاتوں کے اندر ذیلی درجہ بندی بنانے کا آئینی اختیار حاصل ہے تاکہ ان میں سے سب سے زیادہ پسماندہ لوگوں کو ٹارگٹ ریزرویشن فراہم کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



