Bharat Express DD Free Dish

Flood Relief for Assam and Gujarat: وزیر داخلہ امت شاہ نے سیلاب سے متاثرہ آسام اور گجرات کے لیے 707 کروڑ روپے کی دی منظوری

ملک کی کئی ریاستیں سیلاب کی وجہ سے کافی متاثر ہیں۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں ہونے والی ایک میٹنگ میں سیلاب سے متاثرہ آسام اور گجرات کے لیے 707 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں اعلیٰ سطحی کمیٹی نے سیلاب اور زمین کھسکنے سے متاثرہ آسام اور گجرات کے لیے 707 کروڑ روپے کی اضافی امداد کی منظوری دی ہے۔ یہ امداد نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ (این ڈی آر ایف) سے دی جائے گی، جس میں ریاستی آفات ریسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) میں دستیاب رقم کا 50 فیصد شامل کیا جائے گا۔

امت شاہ کی صدارت میں ہونے والی اس میٹنگ میں آسام کو 313.69 کروڑ روپے اور گجرات کو 394.28 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کے لیے آگ سے بچاؤ اور جدید کاری کے منصوبوں کے تحت 903.67 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے، جس میں مرکزی حکومت کی طرف سے 676.33 کروڑ روپے کی مدد شامل ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، اسٹیٹ ڈیزاسٹر مٹیگیشن فنڈ  (ایس ڈی ایم ایف) سے 21 ریاستوں کو 4,571.30 کروڑ روپے اور نیشنل ڈیزاسٹر مٹیگیشن فنڈ (این ڈی ایم ایف) سے 9 ریاستوں کو 372.09 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔

این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کا کردار آفات سے نمٹنے میں نہایت اہم ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ (این ڈی آر ایف) کا قیام 2005 کے آفات مینجمنٹ ایکٹ کے تحت کیا گیا تھا، جس کا مقصد ریاستوں کو شدید قدرتی آفات کے وقت اضافی امداد فراہم کرنا ہے۔

ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کے تحت فنڈز کی تقسیم مالیاتی کمیشنوں کی سفارشات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ وزارت کے مطابق، ایس ڈی آر ایف کے لیے مرکز اور ریاستی حکومتیں مشترکہ طور پر فنڈ فراہم کرتی ہیں، جہاں زیادہ تر ریاستوں کے لیے یہ تناسب 75:25 ہوتا ہے، جب کہ شمال مشرقی اور ہمالیائی ریاستوں کے لیے یہ تناسب 90:10 ہے۔ دوسری طرف، این ڈی آر ایف میں مکمل فنڈنگ مرکزی حکومت کی جانب سے کی جاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read