ملک کی راجدھانی دہلی میں اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کئی مشہور اور بڑے اسکولوں کو آئے دن ایسی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں جمعرات کے روز دہلی کے 6 اسکولوں کو بم دھماکے کی دھمکی دی گئی، جس سے افراتفری مچ گئی۔
دہلی کے اسکولوں کو ایک بار پھر دھمکی
جن اسکولوں کو یہ دھمکیاں موصول ہوئیں، ان میں دوارکا سیکٹر-5 اور پرساد نگر کے کچھ معروف اسکول شامل ہیں۔ اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور اسکولوں میں جامع تلاشی مہم چلائی گئی۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر طلبہ، والدین اور اسکول کے عملے کے درمیان تشویش کی لہر دوڑا دی۔
حالانکہ اب تک کسی بھی اسکول میں کوئی مشتبہ چیز برآمد نہیں ہوئی ہے۔ فی الحال پولیس اُن ای میل پیغامات کی تفتیش کر رہی ہے جن میں دھمکیاں دی گئی تھیں۔
20 اگست کو بھی موصول ہوئی تھی دھمکی
اس سے ایک دن قبل، یعنی بدھ کو بھی دہلی کے کچھ اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ دہلی فائر سروس کے مطابق، صبح 7:40 اور 7:42 کے درمیان دو اسکولوں میں بم کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ یہ دھمکیاں ای میل کے ذریعے بھیجی گئی تھیں۔ ان اسکولوں میں مالویہ نگر کا ایس کے وی اسکول اور پرساد نگر کا آندھرا اسکول شامل تھا۔
18 اگست کو ڈی پی ایس دوارکا کو خالی کرایا گیا تھا
اسی طرح 18 اگست کو صبح تقریباً 7 بجے بم کی دھمکی آمیز کال کے بعد دہلی پبلک اسکول (DPS) دوارکا کو خالی کرانا پڑا۔ اس معاملے میں بھی افسران نے فوری کارروائی کی، اور بم ڈسپوزل ٹیم نے مکمل جانچ کی۔ تاہم، وہ کال ایک افواہ ثابت ہوئی۔
عام آدمی پارٹی نے کسا طنز
دہلی کے اسکولوں کو مسلسل مل رہی ان دھمکیوں کے بعد عام آدمی پارٹی نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ عام آدمی پارٹی نے گزشتہ دن ایکسپر لکھا:”دہلی کے اسکولوں کو ایک بار پھر بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ یہ اب ایک سلسلہ بن چکا ہے، لیکن بی جے پی حکومت، دہلی پولیس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ان دھمکیوں سے بچوں اور والدین میں خوف کا ماحول ہے۔ بچے اسکول جانے سے گھبرا رہے ہیں، لیکن وزیراعلیٰ ریکھا گپتا جی کو کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


