افغانستان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی آج ہفتہ کے روزدارالعلوم دیوبند پہنے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتتم مفتی عبدالقاسم نعمانی، جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی سمیت کئی دوسرے سینئراساتذہ سے ان کی ملاقات بھی ہوئی۔ یہ ملاقات کافی اہم رہی اورکافی خوشگواربھی۔ امیرخان متقی نے دارالعلوم کا دورہ کیا اورمسجد میں نمازظہرادا کی۔ اس دوران کلاس روم میں بیٹھ کر طلبا کودرس بھی دیا۔
مذہبی اور سفارتی نظریے سے اہم ہے یہ دورہ
طالبان رہنما امیر خان متقی کا یہ دورہ مذہبی اورسفارتی دونوں لحاظ سے اہم ہے۔ یہ پاکستان کے اس دعوے کوچیلنج دیتا ہے، جس میں پاکستان خود کو دیوبندی مسلک کا سرپرست اورطالبان کے اصل حامی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ امیر خان متقی کا دیوبند کا دورہ یہ پیغام دیتا ہے کہ طالبان کی مذہبی جڑیں پاکستان میں نہیں بلکہ ہندوستان میں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طالبان اپنی سیاست اورسفارت کاری میں پاکستان پرانحصار کم کرکے بھارت کی طرف رخ کررہے ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ دیوبند کی بنیاد 1866 میں رکھی گئی تھی اوریہ دارالعلوم جیسے اسلامی اداروں کی جائے پیدائش ہے۔
دیوبند میں پڑھتے ہیں افغانستان کے طلبا
اطلاعات کے مطابق افغانستان (طالبان) کے وزیرخارجہ امیرخان متقی آج دارالعلوم دیوبند پہنچے ہیں۔ وہ صبح تقریباً 11 بجے دیوبند پہنچے۔ دارالعلوم کے طلباء نے افغانی وزیر خارجہ کا استقبال کیا۔ اس وقت افغانستان کے 15 طلباء دارالعلوم میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ سال 2000 کے بعد سخت ویزہ قوانین کی وجہ سے افغانستان سے طلبہ کی تعداد میں کمی واقع ہوئی تھی، اس سے قبل سینکڑوں طلبہ دارالعلوم میں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔
واضح رہے کہ طالبان لیڈران، دارالعلوم کومدارس اوراسلامی فکر کے لیے اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ دارالعلوم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو موجودہ افغان حکومت میں ملازمتوں کے لیے ترجیحی سلوک بھی دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل 1958 میں اس وقت کے افغانستان کے بادشاہ محمد ظاہرشاہ نے دارالعلوم کا دورہ کیا تھا۔ دارالعلوم میں ظاہرشاہ کے نام پر”بابِ ظاہر” کے نام سے ایک دروازہ بنایا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
