دہلی-این سی آر میں سوائن فلو کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے کیسز کے ساتھ اس وائرس کی بدلتی ہوئی شکل بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ نئی دہلی میں واقع ایمس کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے بھی اس حوالے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کی اس بدلتی ہوئی شکل کو طبی زبان میں اینٹی جینک ڈرفٹ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ وائرس پہلے کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہوگیا ہے اور لوگوں میں پہلے سے موجود قوت مدافعت کو بھی چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے یہ بھی واضح کیا کہ وائرس میں میوٹیشن ایک معمول کا عمل ہے اور عوام کو گھبرانے یا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حال ہی میں مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے دہلی میں بڑھتے سوائن فلو کے کیسز کے حوالے سے دہلی حکومت کے افسران کے ساتھ جائزہ اجلاس کیا تھا۔ دہلی میں اس سال H1N1 کے 1777 تک کیسز سامنے آچکے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم از کم سات گنا زیادہ ہیں۔
اینٹی جینک ڈرفٹ کیا ہے اور یہ کیوں خطرناک ہے؟
ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے اس وبا کے پیچھے موجود اہم وجوہات کو تفصیل سے سمجھایا ہے۔ ان کے مطابق سوائن فلو وائرس کی بیرونی ساخت وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اسے اس طرح سمجھا جاسکتا ہے جیسے کوئی مجرم اپنی شناخت چھپانے کے لیے بار بار بھیس بدلتا رہے۔ وائرس کی ساخت میں تبدیلی کی وجہ سے نیا اسٹرین پہلے والے اسٹرین کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ جن لوگوں نے پہلے ویکسین لگوائی ہے یا جو پہلے اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں، ان کا مدافعتی نظام پرانے وائرس کو پہچانتا ہے۔ لیکن جب وائرس اپنی شکل تبدیل کرلیتا ہے تو جسم کا دفاعی نظام اسے فوری طور پر شناخت نہیں کرپاتا، جس کی وجہ سے ویکسین لگوا چکے افراد بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
موسم نے وائرس کی بقا بڑھا دی
وائرس میں میوٹیشن کے ساتھ ساتھ مون سون کا موسم بھی اس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بارش اور ہوا میں نمی کی وجہ سے H1N1 وائرس ماحول میں زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے، جس سے یہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں آسانی سے منتقل ہورہا ہے۔ ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے بتایا کہ اس مرتبہ اسپتالوں میں سانس لینے میں دشواری اور نمونیا میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ زیادہ تر مریض گھر پر یا عام وارڈ میں ہی صحت یاب ہورہے ہیں، لیکن بزرگوں اور سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد میں انفیکشن شدید شکل اختیار کررہا ہے اور انہیں آئی سی یو میں داخل کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
عام طور پر H1N1 میں بخار، کھانسی، جسم میں درد، گلے میں خراش اور ناک بہنے جیسی ہلکی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ تاہم، کچھ علامات ایسی ہیں جن کے ظاہر ہونے پر مریض کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ان میں سینے میں درد یا بھاری پن محسوس ہونا، سانس لینے میں دشواری یا سانس پھولنا، کھانسی کا بہت زیادہ بڑھ جانا اور بلغم آنا، جبکہ 4 سے 5 دن گزرنے کے باوجود تیز بخار کا کم نہ ہونا شامل ہے۔
بچوں اور بزرگوں کے لیے کن علامات پر توجہ دیں؟
اگر بچوں یا بزرگوں میں انتہائی سستی، ذہنی طور پر چوکنا پن کم ہونا، بچے کا دودھ یا کھانا نہ کھانا اور بہت تیزی سے سانس لینے جیسی علامات نظر آئیں تو انہیں فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیے۔ یہ علامات اس بات کی نشاندہی کرسکتی ہیں کہ انفیکشن گلے اور ناک سے آگے بڑھ کر پھیپھڑوں تک پہنچ گیا ہے اور نمونیا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
گھر میں وائرس کے پھیلاؤ کو کیسے روکیں؟
ڈاکٹروں نے مشاہدہ کیا ہے کہ جب گھر کا ایک فرد بیمار ہوتا ہے تو پورا خاندان فلو کی زد میں آسکتا ہے۔ H1N1 کا یہ نیا اسٹرین علامات ظاہر ہونے سے ایک دن پہلے ہی دوسرے افراد میں منتقل ہونا شروع ہوسکتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسکول جانے والے بچے وائرس کو اسکول سے گھر لے آتے ہیں، جس کے بعد گھر کے دیگر افراد بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔
بچاؤ کے آسان طریقے
بیمار بچوں کو اسکول نہ بھیجیں۔ اس سے اسکول کے دیگر بچوں اور ان کے اہل خانہ کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ میٹرو، بس یا بھیڑ بھاڑ والی عوامی جگہوں پر جاتے وقت ماسک پہنیں۔ کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک کو ڈھانپیں۔ باقاعدگی سے سینیٹائزر یا صابن کا استعمال کریں۔ اگر آپ کو بخار یا کھانسی ہے تو گھر کے بزرگوں اور چھوٹے بچوں سے فاصلہ برقرار رکھیں۔
ویکسینیشن کتنی اہم ہے؟
بھارت میں بالغ افراد میں فلو ویکسین لگوانے کی شرح 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر جیسی پرانی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو فلو اور نیوموکوکل ویکسین لگوانے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین لگوانے سے انفیکشن کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، لیکن بیماری کی شدت اور اسپتال میں داخل ہونے کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


