Bharat Express DD Free Dish

Teejan Bai Passes Away: معروف پنڈوانی گلوکارہ اور پدم وبھوشن اعزاز یافتہ تیجن بائی کا انتقال، رائے پور ایمس میں لی آخری سانس

تیجن بائی 1956 میں چھتیس گڑھ کے ضلع درگ کے گنیاری گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ہنوک لال پردھا اور والدہ سکھوتی تھیں۔ بچپن میں وہ اپنے نانا برج لال سے مہابھارت کی کہانیاں سنا کرتی تھیں، جنہوں نے بعد میں ان کی پوری زندگی کا رخ متعین کیا۔

نئی دہلی :بھارتی لوک ثقافت کی بے مثال آواز اور پنڈوانی گائیکی کو عالمی شناخت دلانے والی معروف گلوکارہ تیجن بائی اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ طویل عرصے سے علیل تیجن بائی نے ہفتہ کی دیر رات چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں واقع ایمس اسپتال میں آخری سانس لی۔ وہ 70 برس کی تھیں۔ ان کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی چھتیس گڑھ سمیت پورے ملک میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سیاست و ثقافت سے وابستہ متعدد شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔تیجن بائی کو صرف ایک لوک گلوکارہ نہیں بلکہ چھتیس گڑھ کی ثقافتی شناخت کا سب سے مضبوط استعارہ سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے مہابھارت کی روایتی داستان گوئی پر مبنی ’’پنڈوانی‘‘ گائیکی کو اپنی منفرد آواز، بھرپور اداکاری اور جاندار اسٹیج پرفارمنس کے ذریعے نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کے فن نے نہ صرف بھارت بلکہ ایشیا، یورپ اور دنیا کے کئی ممالک میں بھی لوک موسیقی کو نئی پہچان دلائی۔

تیجن بائی 1956 میں چھتیس گڑھ کے ضلع درگ کے گنیاری گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ہنوک لال پردھا اور والدہ سکھوتی تھیں۔ بچپن میں وہ اپنے نانا برج لال سے مہابھارت کی کہانیاں سنا کرتی تھیں، جنہوں نے بعد میں ان کی پوری زندگی کا رخ متعین کیا۔ ان کی غیر معمولی صلاحیت کو سب سے پہلے امید سنگھ دیش مکھ نے پہچانا اور انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ صرف 13 برس کی عمر میں انہوں نے پہلی مرتبہ عوامی اسٹیج پر پنڈوانی پیش کی اور پھر کامیابی کا سفر کبھی نہیں رکا۔اس دور میں پنڈوانی کی ’’کاپالک‘‘ طرزِ پیشکش پر مرد فنکاروں کا غلبہ تھا، اس لیے ایک خاتون کا اس میدان میں آنا آسان نہیں تھا۔ تیجن بائی کو سماجی مخالفت، تنقید اور کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ہاتھ میں تمبورا اور چہرے پر اعتماد لیے جب وہ اسٹیج پر آتیں تو ان کی آواز اور اداکاری سامعین کو مسحور کر دیتی تھی، یہاں تک کہ یوں محسوس ہوتا جیسے مہابھارت کے کردار آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گئے ہوں۔

ان کی زندگی کا اہم موڑ اس وقت آیا جب معروف تھیٹر ہدایت کار حبیب تنویر نے ان کی پیشکش دیکھی۔ انہوں نے تیجن بائی کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے انہیں قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سمیت کئی عالمی شخصیات کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔بھارتی لوک فنون کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری، پدم بھوشن اور ملک کے دوسرے بڑے شہری اعزاز پدم وبھوشن سے نوازا۔ اس کے علاوہ سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ، شریشٹھ کلا آچاریہ سمان، دیوی اہلیہ سمان، ایم ایس سبھولکشمی صد سالہ ایوارڈ اور اعزازی ڈی لِٹ سمیت متعدد اعزازات بھی ان کے نام رہے۔ تیجن بائی کی وفات صرف ایک عظیم فنکارہ کا نہیں بلکہ بھارتی لوک روایت کے ایک درخشاں باب کا اختتام ہے، تاہم ان کا فن اور ورثہ آنے والی نسلوں کو ہمیشہ متاثر کرتا رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read