Bharat Express DD Free Dish

Where Is Dhankhar? Congress Renews Questions During VP Vote: ’’پورے ملک کو جگدیپ دھنکھر کے بولنے کا ہے انتظار‘‘، نائب صدر کے انتخاب کے لیے جاری ووٹنگ کے درمیان کانگریس نے پھر اٹھائے سوال

دریں اثنا کئی علاقائی پارٹیوں جیسے بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) اور شیرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) نے انتخابی عمل سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کے 15ویں نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ کر اپنا ووٹ ڈالا اور فوری طور پر روانہ ہو گئے۔ یہ انتخاب اس لیے مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیوں کہ سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کی اچانک استعفے کے پس منظر میں حزبِ اختلاف نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ دریں اثنا ایک مرتبہ پھر سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا ہے کہ ’’پچاس دن گزر چکے ہیں اور دھنکھڑ نے غیر معمولی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ قوم اب بھی ان کے اظہارِ خیال کی منتظر ہے۔‘‘

وہیں کانگریس لیڈر سچن پائلٹ نے بھی سوال اٹھایا ہے اور پوچھا ہے کہ ’’سابق نائب صدر کہاں ہیں؟ ان کے استعفے کے بعد ہی یہ انتخاب ضروری ہوا۔‘‘ واضح رہے کہ اس انتخاب میں نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن اور اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کے مشترکہ امیدوار سابق جج بی سدرشن ریڈی کے درمیان براہِ راست مقابلہ ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ ان کے امیدوار کو 427 ووٹ حاصل ہونے کی توقع ہے، جو اکثریتی حد 391 سے کہیں زیادہ ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ریڈی کو 354 ووٹوں کی حمایت حاصل ہے، جن میں لوک سبھا کے 249 اور راجیہ سبھا کے 105 ارکان شامل ہیں۔ دونوں اتحادوں نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو ووٹنگ سے پہلے فرضی مشقیں کروائیں تاکہ ووٹ ضائع نہ ہوں۔

آج شام ہی ہوگی ووٹوں کی گنتی

یہ ووٹنگ آج شام 5 بجے تک جاری رہے گی اور اس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل بھی آج ہی شروع ہونے کی توقع ہے۔ دریں اثنا کئی علاقائی پارٹیوں جیسے بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) اور شیرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) نے انتخابی عمل سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے۔ خاص طور پر اکالی دل نے پنجاب میں سیلاب کے دوران مرکزی اور ریاستی حکومت کی بے حسی کے خلاف احتجاجاً اس کا بائیکاٹ کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read