مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع میں بدھ کی رات ایک سنسنی خیز واردات پیش آئی۔ بی جے پی لیڈر سوویندو ادھیکاری کے قریبی ساتھی اور ایگزیکٹو اسسٹنٹ چندرناتھ رتھ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے محض 48 گھنٹے بعد سامنے آیا، جس کے بعد سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔
حملے کی پوری کہانی
اطلاعات کے مطابق رات تقریباً 10:30 بجے مدھیام گرام کے ڈولتلا علاقے میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے رتھ کی گاڑی کو روک لیا۔ انہیں رکنے پر مجبور کیا گیا اور پھر انتہائی قریب سے گولیاں چلائی گئیں۔ واردات انجام دینے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔
سوویندو ادھیکاری نے کیا کہا؟
بی جے پی لیڈر سوویندو ادھیکاری نے اس واقعے کو ’’بے رحمی سے کیا گیا قتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے پہلے علاقے کی ریکی کی تھی۔ ادھیکاری نے کہا کہ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور پارٹی قیادت دہلی سے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسے ریاست میں گزشتہ 15 برسوں سے جاری ’مہا جنگل راج‘ کا نتیجہ بتایا اور کہا کہ بی جے پی اب غنڈوں کے صفائے کا کام کرے گی۔
#WATCH | North 24 Parganas | On his PA, Chandra shot dead in Madhyamgram, BJP leader Suvendu Adhikari says, “This is a pre-planned murder, and this is what DGP said. A recce was done for 2-3 days and a murdered was fully planned. The police initiated investigation… We are… pic.twitter.com/XqcQR8Vz8D
— ANI (@ANI) May 6, 2026
ٹی ایم سی کا ردعمل
ترنمول کانگریس نے بھی اس قتل کی مذمت کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دنوں میں انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد میں ان کے تین کارکن بھی مارے گئے ہیں۔ ٹی ایم سی نے عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قصورواروں کو جلد از جلد سزا مل سکے۔ پارٹی نے واضح کہا کہ جمہوریت میں تشدد اور سیاسی قتل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
سیاسی کشیدگی میں اضافہ
اس واقعے نے انتخاب کے بعد تشدد کے معاملے پر ریاست کی سیاست میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ بی جے پی اور ٹی ایم سی دونوں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پولیس کو کچھ شواہد ملے ہیں اور جانچ جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




