نئی دہلی: وندے ماترم کو لے کر جاری سیاسی تنازع کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) نے صرف اس کے پہلے دو اشعار گانے کی تجویز منظور کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وندے ماترم اس کے لیے جذباتی مسئلہ ہے، جبکہ بی جے پی اسے سیاسی مسئلہ بنا رہی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی نے کانگریس کے اس فیصلے پر سخت اعتراض کیا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس آج کی نئی مسلم لیگ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اپنی توہین کو اب ایک قرارداد کی شکل دے دی ہے۔
کانگریس نے کیا دلیل دی؟
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ 28 اکتوبر 1937 کو رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے پر مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی موجودگی میں CWC کی میٹنگ میں وندے ماترم کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ CWC کی میٹنگ میں بھی اسی پرانی قرارداد پر بات ہوئی ہے اور کانگریس اپنے اسی مؤقف پر قائم ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق اس معاملے کو جان بوجھ کر سیاسی مسئلہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ملک کے اصل مسائل نوجوان، امتحانات، ’چندہ چوری‘ اور خارجہ پالیسی کی ناکامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا مؤقف پہلے دن سے واضح رہا ہے کہ 28 اکتوبر 1937 کو راجندر پرساد نے کہا تھا کہ ’جن گن من‘ قومی ترانہ ہوگا اور وندے ماترم قومی گیت رہے گا۔
نتن نبین نے کانگریس پر کیا حملہ؟
بی جے پی صدر نتن نبین نے کانگریس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آئین کی توہین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے طے کیا ہے کہ پارٹی کے پروگراموں میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو اشعار ہی گائے جائیں گے۔ نتن نبین نے کہا کہ بھارت ماتا کی اس مقدس وندنا کی توہین ان ہزاروں مجاہدین آزادی کی توہین ہے جنہوں نے اسی گیت کو اپنی تحریک کا حصہ بنا کر ملک کے لیے قربانی دی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے ووٹ بینک کی سیاست کے سامنے قومی وقار کو گروی رکھ دیا ہے۔
سدھانشو تریویدی نے بھی کانگریس کو گھیرا
بی جے پی لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سدھانشو تریویدی نے کہا کہ کانگریس نے ثابت کردیا ہے کہ وہ خود کو ملک اور آئین سے بالاتر سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق کانگریس اپنی پارٹی کی قرارداد کو آئین کے قانون سے اوپر رکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1937 میں وندے ماترم کے معاملے پر مسلم لیگ نے جو ضد کی تھی، آج وہی ضد کانگریس کر رہی ہے۔ سدھانشو تریویدی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس اب ’آج کی نئی مسلم لیگ‘ بننے سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر چکی ہے۔ وندے ماترم کو مکمل گانے کے معاملے پر طویل عرصے سے سیاسی تنازع جاری ہے۔ حال ہی میں قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام سے متعلق قانون کو پارلیمنٹ سے منظوری ملی ہے۔ اس کے تحت وندے ماترم کے تمام چھ اشعار گانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قانون کے مطابق قومی گیت کی توہین پر تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ قومی ترانے کی توہین کے معاملے میں بھی سزا کا انتظام موجود ہے۔
لال قلعے پر پہلی بار مکمل وندے ماترم
مانسون اجلاس کے اختتام اور یوم آزادی کے موقع پر لال قلعے سے پہلی بار مکمل وندے ماترم گایا گیا۔ اسی موقع پر کانگریس ہیڈکوارٹر میں بھی وندے ماترم کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ مکمل وندے ماترم گائے جانے پر سونیا گاندھی نے اعتراض کیا تھا، جس کے بعد کئی ریاستوں میں شکایات بھی درج کرائی گئی ہیں۔ بعد میں گوا کانگریس کی میٹنگ میں بھی وندے ماترم کا مکمل ورژن نہیں گایا گیا، جہاں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے موجود تھے۔ کھرگے نے بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس نے وہی ورژن گایا جو مہاتما گاندھی، سردار پٹیل، جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپئی گایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قومی گیت کا یہ ورژن گانا جرم تھا تو ان رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات درج ہونے چاہئیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



